عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَجَاءَ ابْنٌ لَهُمَا صَغِيرٌ لَمْ يَبْلُغِ الْحُلُمَ فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الأَبَ هَا هُنَا وَالأُمَّ هَا هُنَا ثُمَّ خَيَّرَهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِهِ " . فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from 'Abdul-Hamid bin Salamah Al-Ansari, from his father, from his grandfather, that he became Muslim but his wife refused to become Muslim. A young son of theirs, who had not yet reached puberty, came, and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) seated the father on one side and the mother on the other side, and he gave him the choice. He said: "O Allah, guide him," and (the child) went to his father
اردو ترجمہ
سلمہ انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے اور ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان دونوں کا ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آیا تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بٹھا لیا، باپ بھی وہیں تھا اور ماں بھی وہیں تھی۔ آپ نے اسے اختیار دیا ( ماں باپ میں سے جس کے ساتھ بھی تو ہونا چاہے اس کے ساتھ ہو جا ) اور ساتھ ہی کہا ( یعنی دعا کی ) اے اللہ اسے ہدایت دے تو وہ باپ کی طرف ہو لیا۔
