عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ، يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ لَهُ طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَ هِيَ حَائِضٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيُرَاجِعْهَا " . فَرَدَّهَا عَلَىَّ قَالَ " إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ } فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ .
انگریزی ترجمہ
Abdullah bin Ayman asked Hadrat Ibn 'Umar while Abu Az-Zubair was listening:"What did you think about a man who divorces his wife when she is menstruating?" He said to him: "Abdullah bin 'Umar divorced his wife when she was menstruating during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). 'Umar asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (about that) and said: 'Abdullah bin 'Umar has divorced his wife while she was menstruating.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Let him take her back.' So he made me take her back. He said: 'When she becomes pure, let him divorce her or keep her.' Hadrat Ibn 'Umar said: 'The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)! When you divorce women, divorce them before their 'Iddah (prescribed period) elapses
اردو ترجمہ
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ایمن کو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سوال کرتے سنا: آپ کی کیا رائے ہے ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اس وقت طلاق دی جب وہ حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر کی بیوی حالت حیض میں تھی اس نے اسے اسی حالت میں طلاق دے دی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عبداللہ کو چاہیئے کہ وہ اس سے رجوع کرے“، اور پھر آپ نے میری بیوی میرے پاس بھیج دی اور فرمایا: ”جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو جائے تب اسے یا تو طلاق دیدے یا اسے روک لے“ ( اسے دونوں کا اختیار ہے جیسی اس کی مرضی و پسند ہو ) ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ( اس کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھا: «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ”اے نبی! ( اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت ( کے دنوں کے آغاز ) میں انہیں طلاق دو“ ( الطلاق: ۱ ) ۔
