عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، بَعْدَ مَوْتِ نَافِعٍ بِسَنَةٍ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ حَلْقَةٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with him) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated:"A previously married woman has more right to decide about herself (with regard to marriage) than her guardian, and an orphan girl should be consulted, and her permission is her silence
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیوہ اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے ( رشتہ کے ) بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے۔ اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے“۔
