عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يُقَالُ لَهُ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِي تَغْلِبَ يُقَالُ لَهُ الصُّبَىُّ بْنُ مَعْبَدٍ وَكَانَ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ فَأَقْبَلَ فِي أَوَّلِ مَا حَجَّ فَلَبَّى بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ جَمِيعًا فَهُوَ كَذَلِكَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا فَمَرَّ عَلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِكَ هَذَا . فَقَالَ الصُّبَىُّ فَلَمْ يَزَلْ فِي نَفْسِي حَتَّى لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم . قَالَ شَقِيقٌ وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ إِلَى الصُّبَىِّ بْنِ مَعْبَدٍ نَسْتَذْكِرُهُ فَلَقَدِ اخْتَلَفْنَا إِلَيْهِ مِرَارًا أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from Mujahid and others, from a man from the people of Al-Iraq who was called Shaqiq bin Salmah Abu Wail, that:there was a man from Banu Taghlib, who was called As-Subai bin Mabad, who had been a Christian, then became of Muslim.The first time he went for Hajj, he recited the Talbiyah Hajj and "Umrah together, and he continued to recite the Talbiyah for them together, He passed by Hadrat Salman bin Rabiah and Hadrat Zaid bin suhan, and one to then said; "You are more lost than this camel of yours." As-Subai" said: "This upset me until I met 'Umar bin Al-Khattab, and I mentioned that to him. He said: 'Yuou have been guided to the sunnah of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) shaqiq said: "Masruq bin Al-Ajda and I often used to visit As-Subai bin Ma'bad and talk with him
اردو ترجمہ
شقیق بن سلمہ حضرت ابووائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہو گیا، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا حضرت سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے کہا: تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی ہدایت و توفیق ملی ہے۔ شقیق ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں اور مسروق بن اجدع دونوں صبی بن معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے تو میں اور مسروق بن اجدع دونوں متعدد بار ان کے پاس گئے۔
