عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَسَائِلَ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ كَدَحَ وَجْهَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلاَّ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ شَيْئًا لاَ يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Samurah bin Jundab (may Allah be well pleased with him) said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Every time a man begs, it will turn into lacerations on his face (on the Day of Resurrection). So whoever wants his face to be lacerated (let him ask), and whoever does not want that (let him not ask): except in the case of a man who asks a Sultan, or he asks when he can find no alternative
اردو ترجمہ
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مانگنا خراش ( زخم کی ہلکی لکیر ) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر ( مانگ کر ) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو“۔
