عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أَتَى نَعْىُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صِئْرِ الْبَابِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ يَبْكِينَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْطَلِقْ فَانْهَهُنَّ " . فَانْطَلَقَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ نَهَيْتُهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْتَهِينَ . فَقَالَ " انْطَلِقْ فَانْهَهُنَّ " . فَانْطَلَقَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ نَهَيْتُهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْتَهِينَ . قَالَ " فَانْطَلِقْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَ الأَبْعَدِ إِنَّكَ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat ' Aishah (may Allah be well pleased with her) said:'When news of the death of Hadrat Zaid bin Harithah, Ja'far bin Abi Talib and 'Abdullah bin Rawahah was announced, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sat down and it could be seen that he was grieving. I was looking through a crack in the door, and a man came and said: 'Ja'far's womenfolk are weeping.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Go and prevent them.' He went away, then he came back, and said: I told them not to do that, but they refused to stop; He said: Go and prevent them; He went away then he came back, and said: I told them not to do that, but they refused to stop. He said: 'Throw dust in their mouths.'" Hadrat Aishah said: "I said: 'May Allah rub his nose in the dust, the one who is over there! You did not leave the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) alone but you were not going to do (what he told you to do)
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) کے مرنے کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ( اور ) آپ ( کے چہرے ) پر حزن و ملال نمایاں تھا، میں دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھی ( اتنے میں ) ایک شخص آیا اور کہنے لگا: جعفر ( کے گھر ) کی عورتیں رو رہی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جاؤ انہیں منع کرو ، چنانچہ وہ گیا ( اور ) پھر ( لوٹ کر ) آیا اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا ( لیکن ) وہ نہیں مانیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں منع کرو ( پھر ) وہ گیا ( اور پھر لوٹ کر آیا، اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا ( لیکن ) وہ نہیں مان رہی ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جاؤ ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی ناک خاک آلود کرے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے، تو اللہ کی قسم! نہ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو پریشان کرنا چھوڑ رہا ہے، اور نہ تو یہی کر سکتا ہے ( کہ انہیں سختی سے روک دے ) ۱؎۔
