سنن نسائیThe Book of Qiyam Al-Lail (The Night Prayer) and Voluntary Prayers During the Day#1601صحیح
عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوَتْرِ، فَقَالَ أَلاَ أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ . قَالَ عَائِشَةُ ائْتِهَا فَسَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَىَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهَا إِلاَّ مُضِيًّا . فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ لِحَكِيمٍ مَنْ هَذَا مَعَكَ قُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ . قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ ابْنُ عَامِرٍ . فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرًا . قَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ أَلَيْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ قُلْتُ بَلَى . قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنُ . فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ أَلَيْسَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ { يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ } قُلْتُ بَلَى . قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ حَوْلاً حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَةِ يَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَىَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا سَلَّمَ فَتِلْكَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَىَّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَحَبَّ أَنْ يَدُومَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلاَ أَعْلَمُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً كَامِلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا كَامِلاً غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَتْ أَمَا أَنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَذَا وَقَعَ فِي كِتَابِي وَلاَ أَدْرِي مِمَّنِ الْخَطَأُ فِي مَوْضِعِ وِتْرِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Sa'd (may Allah be well pleased with him) bin Hisham that:He met Hadrat Ibn 'Abbas and asked him about Witr. He said: "Shall I not lead you to one who knows best among the people of the world about the witr of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?" He said: "Yes." (Hadrat Ibn Abbas) said: "It is Hadrat 'Aishah. So go to her and ask her (about witr) and then come back to me and tell me the answer that she gives you." So I went to Hakim bin Aflah and asked him to go accompany me to her. He said: "I shall not go to her, for I told her not to say anything about these two (conflicting) groups, but she refused (to accept my advice) and went on (to participate in the conflict)." I swore an oath, beseeching him (to take me to her). So he came with me and went unto her. She said to Hakim: "Who is this with you?" He said: "He is Sa'd bin Hisham." She said: "Which Hisham?" He said: "Ibn Amir." She supplicated for mercy for him and said: "What a good man Amir was." He said: "O Mother of the Believers, tell me about the character of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." She said: "Don't you read the Qur'an?" I said: "Yes." She said "The character of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was the Qur'an." He said: "I wanted to get up (and leave), then I thought of the Qiyam (night prayer) of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and said: "Tell me about the Qiyam of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." She said: "Do you not recite this surah: "O you wrapped in garments?" I said: "Yes." She said: "Allah, the Mighty and Sublime, made Qiyam Al-Lail obligatory at the beginning of this surah, so the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and his companions prayed Qiyam Al-Lail for one year. Allah (SWT) withheld the latter part of this surah for twelve months, then he revealed the lessening (of this duty) at the end of this surah, so Qiyam Al-Lail became voluntary after it had been obligatory." I felt inclined to stand up (and not ask anything further), then I thought of the witr of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). I said: "O Mother of the Believers, tell me about the witr of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." She said: "We used to prepare his siwak and water for his ablution, and Allah (SWT) would wake him when He wished during the night. He would use the siwak, perform ablution, and then pray eight rak'ahs in which he would not sit until he reached the eighth one. Then he would sit and remember Allah (SWT) and supplicate, then he would say the taslim that we could hear. Then he would pray two rak'as sitting after uttering the taslim, then he would pray one rak'ah, and that made eleven rak'ahs, O my son! When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) grew older and put on weight, he prayed witr with seven rak'ahs, then he prayed two rak'ahs sitting down after saying the taslim, and that made nine rak'ahs. O my son, when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)offered a prayer, he liked to continue to offer it, and when sleep, sickness, or pain distracted him from praying Qiyam Al-Lail, he would pray twelve rak'ahs during the day. I am not aware of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) having recited the whole Qur'an during a single night, or praying through the whole night until morning, or fasting a complete month, except Ramadan." I went to Hadrat Ibn 'Abbas and told him what she had said, and he said: "She has spoken the truth. If I could go to her (and meet her face to face) I would so that she could tell me all of that verbally
اردو ترجمہ
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملے تو ان سے وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اہل زمین میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وتر کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ سعد نے کہا: کیوں نہیں ( ضرور بتائیے ) تو انہوں نے کہا: وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں، ان کے پاس جاؤ، اور ان سے سوال کرو، پھر میرے پاس لوٹ کر آؤ، اور وہ تمہیں جو جواب دیں اسے مجھے بتاؤ، چنانچہ میں حکیم بن افلح کے پاس آیا، اور ان سے میں نے اپنے ساتھ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے چلنے کے لیے کہا، تو انہوں نے انکار کیا، اور کہنے لگے: میں ان سے نہیں مل سکتا، میں نے انہیں ان دو گروہوں ۱؎ کے متعلق کچھ بولنے سے منع کیا تھا، مگر وہ بولے بغیر نہ رہیں، تو میں نے حکیم بن افلح کو قسم دلائی، تو وہ میرے ساتھ آئے، چنانچہ وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حکیم سے کہا: تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: سعد بن ہشام ہیں، تو انہوں نے کہا: کون ہشام؟ میں نے کہا: عامر کے لڑکے، تو انہوں نے ان ( عامر ) کے لیے رحم کی دعا کی، اور کہا: عامر کتنے اچھے آدمی تھے۔ سعد نے کہا: اُمّ المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سراپا قرآن تھے، پھر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق پوچھنے کا خیال آیا، تو میں نے کہا: اُمّ المؤمنین! مجھے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق بتائیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے شروع میں قیام اللیل کو فرض قرار دیا، تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایک سال تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے، اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کی آخر کی آیتوں کو بارہ مہینے تک روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، اور رات کا قیام اس کے بعد کہ وہ فرض تھا نفل ہو گیا، میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا، تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وتر کے متعلق بھی پوچھ لوں، تو میں نے کہا: اُمّ المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وتر کے بارے میں بھی بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھ دیتے، تو اللہ تعالیٰ رات میں آپ کو جب اٹھانا چاہتا اٹھا دیتا تو آپ مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۲؎ جن میں آپ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، ذکر الٰہی کرتے، دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنائی دیتا، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے تو اس طرح کل گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بوڑھے ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا تو وتر کی سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، تو میرے بیٹے! اس طرح کل نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ کو یہ پسند ہوتا کہ اس پر مداومت کریں، اور جب آپ نیند، بیماری یا کسی تکلیف کی وجہ سے رات کا قیام نہیں کر پاتے تو آپ ( اس کے بدلہ میں ) دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی آپ پوری رات صبح تک قیام ہی کرتے، اور نہ ہی کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے، سوائے رمضان کے، پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے ان کی یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے کہا: حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ کہا، رہا میں تو اگر میں ان کے یہاں جاتا ہوتا تو میں ان کے پاس ضرور جاتا یہاں تک کہ وہ مجھ سے براہ راست بالمشافہ یہ حدیث بیان کرتیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اسی طرح میری کتاب میں ہے، اور میں نہیں جانتا کہ کس شخص سے آپ کی وتر کی جگہ کے بارے میں غلطی ہوئی ہے ۳؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوَتْرِ، فَقَالَ أَلاَ أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ . قَالَ عَائِشَةُ ائْتِهَا فَسَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَىَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهَا إِلاَّ مُضِيًّا . فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ لِحَكِيمٍ مَنْ هَذَا مَعَكَ قُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ . قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ ابْنُ عَامِرٍ . فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرًا . قَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ أَلَيْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ قُلْتُ بَلَى . قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنُ . فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ أَلَيْسَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ { يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ } قُلْتُ بَلَى . قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ حَوْلاً حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَةِ يَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَىَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا سَلَّمَ فَتِلْكَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَىَّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَحَبَّ أَنْ يَدُومَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلاَ أَعْلَمُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً كَامِلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا كَامِلاً غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَتْ أَمَا أَنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَذَا وَقَعَ فِي كِتَابِي وَلاَ أَدْرِي مِمَّنِ الْخَطَأُ فِي مَوْضِعِ وِتْرِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ .
It is narrated by Hadrat Sa'd (may Allah be well pleased with him) bin Hisham that:He met Hadrat Ibn 'Abbas and asked him about Witr. He said: "Shall I not lead you to one who knows best among the people of the world about the witr of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?" He said: "Yes." (Hadrat Ibn Abbas) said: "It is Hadrat 'Aishah. So go to her and ask her (about witr) and then come back to me and tell me the answer that she gives you." So I went to Hakim bin Aflah and asked him to go accompany me to her. He said: "I shall not go to her, for I told her not to say anything about these two (conflicting) groups, but she refused (to accept my advice) and went on (to participate in the conflict)." I swore an oath, beseeching him (to take me to her). So he came with me and went unto her. She said to Hakim: "Who is this with you?" He said: "He is Sa'd bin Hisham." She said: "Which Hisham?" He said: "Ibn Amir." She supplicated for mercy for him and said: "What a good man Amir was." He said: "O Mother of the Believers, tell me about the character of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." She said: "Don't you read the Qur'an?" I said: "Yes." She said "The character of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was the Qur'an." He said: "I wanted to get up (and leave), then I thought of the Qiyam (night prayer) of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and said: "Tell me about the Qiyam of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." She said: "Do you not recite this surah: "O you wrapped in garments?" I said: "Yes." She said: "Allah, the Mighty and Sublime, made Qiyam Al-Lail obligatory at the beginning of this surah, so the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and his companions prayed Qiyam Al-Lail for one year. Allah (SWT) withheld the latter part of this surah for twelve months, then he revealed the lessening (of this duty) at the end of this surah, so Qiyam Al-Lail became voluntary after it had been obligatory." I felt inclined to stand up (and not ask anything further), then I thought of the witr of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). I said: "O Mother of the Believers, tell me about the witr of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." She said: "We used to prepare his siwak and water for his ablution, and Allah (SWT) would wake him when He wished during the night. He would use the siwak, perform ablution, and then pray eight rak'ahs in which he would not sit until he reached the eighth one. Then he would sit and remember Allah (SWT) and supplicate, then he would say the taslim that we could hear. Then he would pray two rak'as sitting after uttering the taslim, then he would pray one rak'ah, and that made eleven rak'ahs, O my son! When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) grew older and put on weight, he prayed witr with seven rak'ahs, then he prayed two rak'ahs sitting down after saying the taslim, and that made nine rak'ahs. O my son, when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)offered a prayer, he liked to continue to offer it, and when sleep, sickness, or pain distracted him from praying Qiyam Al-Lail, he would pray twelve rak'ahs during the day. I am not aware of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) having recited the whole Qur'an during a single night, or praying through the whole night until morning, or fasting a complete month, except Ramadan." I went to Hadrat Ibn 'Abbas and told him what she had said, and he said: "She has spoken the truth. If I could go to her (and meet her face to face) I would so that she could tell me all of that verbally
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملے تو ان سے وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اہل زمین میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وتر کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ سعد نے کہا: کیوں نہیں ( ضرور بتائیے ) تو انہوں نے کہا: وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں، ان کے پاس جاؤ، اور ان سے سوال کرو، پھر میرے پاس لوٹ کر آؤ، اور وہ تمہیں جو جواب دیں اسے مجھے بتاؤ، چنانچہ میں حکیم بن افلح کے پاس آیا، اور ان سے میں نے اپنے ساتھ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے چلنے کے لیے کہا، تو انہوں نے انکار کیا، اور کہنے لگے: میں ان سے نہیں مل سکتا، میں نے انہیں ان دو گروہوں ۱؎ کے متعلق کچھ بولنے سے منع کیا تھا، مگر وہ بولے بغیر نہ رہیں، تو میں نے حکیم بن افلح کو قسم دلائی، تو وہ میرے ساتھ آئے، چنانچہ وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حکیم سے کہا: تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: سعد بن ہشام ہیں، تو انہوں نے کہا: کون ہشام؟ میں نے کہا: عامر کے لڑکے، تو انہوں نے ان ( عامر ) کے لیے رحم کی دعا کی، اور کہا: عامر کتنے اچھے آدمی تھے۔ سعد نے کہا: اُمّ المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سراپا قرآن تھے، پھر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق پوچھنے کا خیال آیا، تو میں نے کہا: اُمّ المؤمنین! مجھے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق بتائیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے شروع میں قیام اللیل کو فرض قرار دیا، تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایک سال تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے، اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کی آخر کی آیتوں کو بارہ مہینے تک روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، اور رات کا قیام اس کے بعد کہ وہ فرض تھا نفل ہو گیا، میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا، تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وتر کے متعلق بھی پوچھ لوں، تو میں نے کہا: اُمّ المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وتر کے بارے میں بھی بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھ دیتے، تو اللہ تعالیٰ رات میں آپ کو جب اٹھانا چاہتا اٹھا دیتا تو آپ مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۲؎ جن میں آپ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، ذکر الٰہی کرتے، دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنائی دیتا، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے تو اس طرح کل گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بوڑھے ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا تو وتر کی سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، تو میرے بیٹے! اس طرح کل نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ کو یہ پسند ہوتا کہ اس پر مداومت کریں، اور جب آپ نیند، بیماری یا کسی تکلیف کی وجہ سے رات کا قیام نہیں کر پاتے تو آپ ( اس کے بدلہ میں ) دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی آپ پوری رات صبح تک قیام ہی کرتے، اور نہ ہی کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے، سوائے رمضان کے، پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے ان کی یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے کہا: حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ کہا، رہا میں تو اگر میں ان کے یہاں جاتا ہوتا تو میں ان کے پاس ضرور جاتا یہاں تک کہ وہ مجھ سے براہ راست بالمشافہ یہ حدیث بیان کرتیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اسی طرح میری کتاب میں ہے، اور میں نہیں جانتا کہ کس شخص سے آپ کی وتر کی جگہ کے بارے میں غلطی ہوئی ہے ۳؎۔