عربی (اصل)
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب، أخبرنا محمد بن أبي بكر المقدَّمي، حدثنا فُضَيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عُقْبة، سمع عُبيدَ الله بن سلمان(2)، عن أبيه، عن أبي أيوب الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن عبدٍ يَعبُدُ اللهَ ولا يُشرِكُ به شيئًا، ويقيمُ الصلاةَ، ويؤتي الزكاةَ، ويجتنبُ الكبائرَ، إلَّا دَخَلَ الجنةَ" قال: فسألوه: ما الكبائرُ؟ قال:"الإشراكُ بالله، والفِرارُ من الزَّحْف، وقتلُ النَّفْس"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين(2)، ولا أعرفُ له عِلّةً، ولم يُخرجاه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 60 - عبيد الله عن أبيه سلمان الأغر خرج له البخاري فقط
انگریزی ترجمہ
Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "No servant who worships Allah without associating anything with Him, establishes the prayer, pays the zakah, and avoids the major sins, will be denied entry into Paradise." They asked: "What are the major sins?" He said: "Associating partners with Allah, fleeing from the battlefield, and killing a soul (unjustly)." Al-Hakim graded it sahih according to the criteria of both al-Bukhari and Muslim.
اردو ترجمہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو بھی بندہ اس حال میں اللہ کی عبادت کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے اور کبیرہ گناہوں سے بچے، تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔“راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا: کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، (جہاد کے میدان میں) دشمن کی صفوں سے بھاگنا، اور کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کی کوئی علت میرے علم میں نہیں، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 60]
