عربی (اصل)
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب النَّوْقاني، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة(4)المكّي. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو بكر بن إسحاق الفقيه قالا: أخبرنا بِشْر بن موسى؛ قالا: حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن حُمَيد بن هلال قال: أتاني أبو العاليَةِ أنا وصاحبًا لي فقال: هَلُمَّا فأنتما أَشبُّ وأَوعى للحديث مني، فانطلقَ بنا حتى أَتينا نصرَ بن عاصم اللَّيثي، فقال: حَدِّثْ هذَينِ حديثَك، قال نصرٌ: حدثنا عُقْبةُ(1)بن مالك - وكان من رَهْطه - قال: بَعَثَ رسولُ الله ﷺ سَرِيَّةً فأَغاروا على قوم فشَذَّ رجل من القوم فأتبَعَه رجل من السَّرِيّة معه السيفُ شاهرٌ، فقال الشاذُّ من القوم: إني مسلم، فلم يَنظُرْ فيها، فضربه فقتله، فنُمِيَ الحديثُ إلى رسول الله ﷺ، فقال قولًا شديدًا، فبلغ القاتلَ، فبينما رسول الله ﷺ يَخطُبُ إذ قال القاتل: يا رسول الله، والله ما قالَ الذي قال إلّا تعوُّذًا من القتل، فأَعرَضَ عنه رسولُ الله ﷺ وعمَّن قِبَلَه من الناس، وأخذ في خُطْبته، ثم قال الثانيةَ: يا رسول الله، والله ما قال الذي قال إلَّا تعوُّذًا من القتل، فأعرضَ عنه رسولُ الله ﷺ وعمَّن قِبَلَه من الناس، وأَخذ في خُطْبته، ثم لم يَصبِرْ أن قال الثالثةَ: والله يا رسول الله ما قال الذي قال إلّا تعوُّذًا من القتل، فأقبلَ عليه رسول الله ﷺ تُعرَفُ المَسَاءةُ في وجهه، ثم قال:"إنَّ الله ﷿ أَبَى عليَّ من قتلَ مؤمنًا"؛ قالها ثلاثًا(2).هذا حديث مخرَّج مثلُه في"المسند الصحيح" لمسلم، فقد احتجَّ بنصر بن عاصم الليثي وسليمان بن المغيرة، فأما عُقْبة بن مالك اللَّيثي فإنه صحابي مُخرَّج حديثه في كتب الأئمة في الوُحْدان، وقد بيَّنتُ شَرْطي في أول الكتاب بأني أُخرج حديث الصحابة عن آخرهم، إذا صحَّ الطريقُ إليهم. وقد تابع يونسُ بنُ عُبيد سليمانَ بن المغيرة على روايته عن حُميدٍ على شرط مسلم:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 47 - على شرط مسلم
انگریزی ترجمہ
'Uqbah ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) sent out a military expedition that raided a people. A man from the people broke away and was pursued by a man from the expedition with his sword drawn. The fleeing man said: 'I am a Muslim!' But the pursuer paid no heed and struck and killed him. The news reached the Messenger of Allah (peace be upon him), and he spoke harshly about it. When the killer heard this, while the Messenger of Allah (peace be upon him) was giving a sermon, he said: 'O Messenger of Allah, by Allah, he only said that to seek protection from being killed.' The Messenger of Allah (peace be upon him) turned away from him and continued his sermon. The man repeated it a second time, and the Messenger turned away again. When he could not restrain himself and said it a third time, the Messenger of Allah (peace be upon him) turned to him with displeasure evident on his face and said: 'Indeed, Allah has refused to grant me (leniency) for the one who killed a believer' — he said this three times."
اردو ترجمہ
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک دستہ بھیجا، انہوں نے ایک قوم پر چھاپہ مارا، وہاں سے ایک شخص (جان بچانے کے لیے) بھاگا تو لشکر کے ایک آدمی نے ننگی تلوار لے کر اس کا پیچھا کیا، اس شخص نے کہا: میں مسلمان ہوں، لیکن پیچھا کرنے والے نے اس کی پرواہ نہ کی اور اسے ضرب لگا کر قتل کر دیا، یہ بات رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتک پہنچی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا، قاتل تک یہ بات پہنچی تو جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمخطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، اس نے یہ بات صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے اور اس کی طرف والے لوگوں سے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا، پھر اس نے دوسری بار کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، اس نے یہ بات صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر اس سے اور اس کی طرف کے لوگوں سے اعراض فرمایا اور اپنا خطبہ جاری رکھا، پھر اس سے صبر نہ ہو سکا اور تیسری بار کہا: اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! اس نے یہ بات صرف جان بچانے کے لیے کہی تھی، تب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار نمایاں تھے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک اللہ عزوجل نے مجھ پر اس شخص (کے حق میں رعایت کرنے) سے انکار فرما دیا ہے جس نے کسی مومن کو قتل کیا“؛ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ بات تین بار فرمائی۔اس جیسی حدیث امام مسلم کی”المسند الصحيح“میں موجود ہے، انہوں نے نصر بن عاصم لیثی اور سلیمان بن مغیرہ سے احتجاج کیا ہے، رہی بات عقبہ بن مالک لیثی کی تو وہ صحابی ہیں اور ان کی حدیث ائمہ کی کتب میں ’وحدان‘ (ایسے صحابہ جن سے صرف ایک راوی ہو) میں مذکور ہے، اور میں کتاب کے آغاز میں اپنی یہ شرط واضح کر چکا ہوں کہ میں تمام صحابہ کی احادیث کی تخریج کروں گا بشرطیکہ ان تک پہنچنے والا راستہ صحیح ہو۔ اور یونس بن عبید نے سلیمان بن مغیرہ کی متابعت کرتے ہوئے حمید سے امام مسلم کی شرط پر روایت کیا ہے:[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 47]
