عربی (اصل)
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا محمد بن خَليفة العاقُولي عَنبَرٌ، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عُقْبة بن خالد الشَّنِّي، حدثنا الحسن قال: بينما عِمرانُ بن حصين يحدِّث عن سُنَّة نبيِّنا ﷺ، إذ قال له رجل: يا أبا نُجَيد، حدِّثنا بالقرآن، فقال له عمران: أنت وأصحابُك تقرؤون القرآن، أكنتَ محدِّثِي عن الصلاة وما فيها وحدودِها؟ أكنتَ محدِّثي عن الزكاة في الذهب والإبل والبقر وأصناف المال؟ ولكن قد شَهِدتُ وغِبتَ أنت، ثم قال: فَرَضَ علينا رسولُ الله ﷺ في الزكاة كذا وكذا، وقال الرجل: أحييتني أحْياكَ الله. قال الحسن: فما مات ذلك الرجل حتى صارَ من فقهاءِ المسلمين(1). عُقْبة بن خالد الشَّنِّي من ثقات البصريين وعُبّادهم، وهو عزيز الحديث، يُجمَع حديثه فلا يَبلُغ تمام العشرة. وصلَّى الله على محمد وآله أجمعين.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 372 - عقبة ثقة عابد
انگریزی ترجمہ
Al-Hasan al-Basri narrated: While Imran ibn Husayn was narrating a Sunnah of our Prophet (peace be upon him), a man said to him: "O Abu Nujayd, tell us about the Qur'an (only)." Imran said to him: "You and your companions recite the Qur'an — could you tell me about the prayer and its details and its limits? Could you tell me about the zakah on gold, camels, cattle, and various types of property? But I was present (with the Prophet) and you were absent." Then he said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) prescribed for us such-and-such regarding zakah." The man said: "You have given me life, may Allah give you life!" Al-Hasan said: That man did not die until he became one of the jurists of the Muslims.
اردو ترجمہ
امام حسن بصری سے روایت ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی سنت بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابو نجید! ہمیں قرآن سنائیے (یعنی صرف قرآن کی بات کریں)؛ عمران رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تم اور تمہارے ساتھی قرآن پڑھتے ہو، کیا تم مجھے نماز اور اس کے احکامات و حدود کے بارے میں (صرف قرآن سے) بتا سکتے ہو؟ کیا تم مجھے سونے، اونٹ، گائے اور مال کی دیگر اقسام پر زکوٰۃ کی تفصیلات بتا سکتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ میں (رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس) موجود تھا اور تم غائب تھے، پھر انہوں نے فرمایا: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہم پر زکوٰۃ میں اس اس طرح (تفصیلات) فرض کی ہیں، تو اس شخص نے کہا: آپ نے مجھے زندگی عطا کر دی، اللہ آپ کو جیتے جی خوش رکھے۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ وہ شخص مرنے سے پہلے مسلمانوں کے فقہاء میں شمار ہونے لگا۔عقبہ بن خالد شنی ثقہ بصریوں میں سے ہیں، ان کی احادیث کم ہیں اور پوری دس بھی نہیں بنتیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 377]
