عربی (اصل)
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الضَّرير بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد. وأخبرنا أبو قُتيبة سَلْم بن فضل الأَدَمي بمكة، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجِيَة، حدثنا عَبْدة بن عبد الله الخُزَاعي، حدثنا زيد بن حُبَاب، حدثنا ليث بن سعد المِصري، حدثني خالد بن يزيد، عن عبد الواحد بن قيس، عن عبد الله بن عمرو قال: قالت لي قريش: تكتبُ عن رسول الله ﷺ، وإنما هو بشرٌ يَعْضَبُ كما يَعْضَب البشرُ؟ فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: يا رسول الله، إنَّ قريشًا تقول: تكتبُ عن رسول الله ﷺ، وإنما هو بشرٌ يَعْضَبُ كما يَعْضَب البشر؟ قال: فأَوْمأَ إِلى شَفَتَيهِ فقال:"والذي نفسي بيده، ما يَخرُجُ مما بينهما إلّا حقٌّ، فاكتُبْ"(1).هذا حديث صحيح الأسانيد أصلٌ في نَسْخ الحديث عن رسول الله ﷺ، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا بجميع رُواته إلّا عبد الواحد بن قيس، وهو شيخ من أهل الشام، وابنُه عمر بن عبد الواحد الدمشقي أحد أئمة الحديث. وقد روى عبد الواحد بن قيس عن جماعة من الصحابة منهم أبو هريرة وأبو أُمامة الباهلي ووائلة بن الأسقَع، وروى عنه الأوزاعيُّ أحاديث. ولهذا الحديث شاهدٌ قد اتَّفقا على إخراجه على سبيل الاختصار عن همَّام بن مُنبِّه عن أبي هريرة أنه قال: ليس أحدٌ من أصحاب النبي ﷺ أكثر حديثًا مني إلّا عبد الله بن عمرو، فإنه كان يَكتُب وكنت لا أكتُب. وعن عمرو بن دينار عن وَهْب بن مُنبِّه عن أخيه همَّام عن أبي هريرة نحوه(2). فأما عبد الواحد بن قيس وحديثُه عن عبد الله بن عمرو، فقد وجدتُ له فيه شاهدًا من حديث عَمرو بن شعيب.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 357 - صحيح
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Amr narrated: Quraysh said to me: "You write down everything you hear from the Messenger of Allah (peace be upon him), and he is but a human being who speaks in anger just as other humans do." So I came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and mentioned this. He pointed to his lips and said: "By the One in Whose hand is my soul, nothing comes out from between these two except the truth. So write." Al-Hakim said: This hadith has a sound chain and is a foundational proof for writing down hadiths from the Messenger of Allah (peace be upon him).
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ سے قریش نے کہا: تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے جو کچھ سنتے ہو وہ سب لکھ لیتے ہو، حالانکہ آپصلی اللہ علیہ وسلمایک انسان ہیں اور اسی طرح غصے میں بھی آتے ہیں جیسے دیگر انسان غصے میں آتے ہیں؟ تو میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قریش کہتے ہیں کہ آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے (ہر بات) لکھ لیتے ہیں جبکہ آپ ایک انسان ہیں اور ویسے ہی غصے میں بھی آتے ہیں جیسے دیگر انسان؟ راوی کہتے ہیں کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے مبارک ہونٹوں کی طرف اشارہ فرمایا اور ارشاد فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! ان دونوں کے درمیان سے حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا، لہٰذا تم لکھا کرو۔“یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی احادیث کو تحریر میں لانے کے معاملے میں ایک اصل (دلیل) ہے، شیخین نے عبدالواحد بن قیس کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے جو کہ اہل شام کے ایک بزرگ ہیں اور ان کے بیٹے عمر بن عبدالواحد دمشقی ائمہ حدیث میں سے ہیں، اور اس حدیث کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی موجود ہے جسے شیخین نے«همام بن منبه عن ابي هريره»کے واسطے سے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 362]
