عربی (اصل)
ذاكرتُ شيخَنا أبا علي الحافظ بهذا الباب، ثم سألته: هل يصحُّ شيءٌ من هذه الأسانيد عن عطاء؟ فقال: لا، قلت: لمَ؟ قال: لأنَّ عطاءً لم يسمعه من أبي هريرة؛ أخبرَناه محمد بن أحمد بن سعيد الواسطي، حدثنا أزهَرُ بن مروان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا علي بن الحَكَم، عن عطاء، عن رجل، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن سُئِلَ عن علمٍ فكَتَمَه، أَلْجَمَه اللهُ يومَ القيامة بلِجامٍ من نار"(2). فقلت له: قد أخطأ فيه أزهرُ بن مروان أو شيخُكم ابن أحمد الواسطي، وغيرُ مُستبدَعٍ منهما الوهمُ:
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever is asked about knowledge and conceals it, Allah will bridle him on the Day of Resurrection with a bridle of fire." Al-Hakim discussed with his teacher Abu Ali al-Hafiz about the chains of this hadith, noting a possible intermediary between 'Ata' and Abu Hurayrah that some chains mention.
اردو ترجمہ
میں نے اپنے شیخ ابوعلی الحافظ سے اس باب میں مذاکرہ کیا اور پوچھا: کیا عطاء سے مروی ان اسناد میں سے کوئی صحیح ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے کہا: کیونکہ عطاء نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا؛ چنانچہ ہمیں یہ حدیث ملی جس میں عطاء اور ابوہریرہ کے درمیان ایک نامعلوم شخص کا واسطہ ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس سے علم پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے، اللہ اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائے گا۔“میں نے ان سے کہا: اس میں ازہر بن مروان یا آپ کے شیخ ابن احمد واسطی سے غلطی ہوئی ہے، اور ان دونوں سے وہم ہو جانا بعید نہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 349]
