عربی (اصل)
حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي. وأخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد؛ قالا: حدثنا أبو صالح، عن معاوية بن صالح. وأخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرحمن - يعني ابن مَهدِي - عن معاوية بن صالح، عن ضَمْرة بن حَبيب، عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي، أنه سمع العِرباضَ بن ساريةَ قال: وَعَظَنا رسولُ الله ﷺ مَوعِظةً ذَرَفَت منها العيون، ووَجِلَت منها القلوب، فقلنا: يا رسول الله، إنَّ هذا لموعظةُ مودِّع، فماذا تَعهَدُ إلينا، قال:"قد تَركتُكم على البيضاءِ ليلِها كنهارِها، لا يَزيغُ عنها بعدي إلّا هالك، ومَن يَعِشْ منكم فسَيَرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بما عرفتُم من سُنَّتي وسُنَّةِ الخلفاءِ المهديِّين الراشدين من بعدي، وعليكم بالطاعة وإنْ عبدًا حبشيًّا، عَضُّوا عليها بالنَّواجِذ"(1). فكان أسدُ بن وَدَاعةَ يزيد في هذا الحديث:"فإنَّ المؤمن كالجَمَل الأَنِفِ، حيثما قِيدَ انقاد"(2). وقد تابع عبدَ الرحمن بنَ عمرو على روايته عن العِرْباض بن ساريةَ ثلاثةٌ من الثّقات الأثبات من أئمة أهل الشام، منهم حُجْر بن حُجر الكَلَاعي:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 331 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ حُجْرٍ الْكَلَاعِيُّ
انگریزی ترجمہ
Al-'Irbad ibn Sariyah narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) admonished us with an admonition that caused eyes to shed tears and hearts to tremble. We said: "O Messenger of Allah, this seems like the admonition of one bidding farewell. What do you instruct us?" He said: "I have left you upon a clear white path, whose night is like its day. No one deviates from it after me except one who is doomed. Whoever among you lives long will see much disagreement. So hold fast to what you know of my Sunnah and the Sunnah of the rightly-guided caliphs after me. Hold firmly to obedience, even if it be to an Abyssinian slave. Bite onto it with your molars." Asad ibn Wada'ah used to add to this hadith: "For indeed, the believer is like a tame camel: wherever it is led, it follows."
اردو ترجمہ
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور دل کانپ اٹھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو کسی رخصت ہونے والے کی نصیحت لگتی ہے، آپ ہمیں کیا عہد فرماتے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے تمہیں ایک ایسے روشن راستے (اسلام) پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح (واضح) ہے، میرے بعد اس سے صرف وہی ہٹے گا جو ہلاک ہونے والا ہوگا، اور تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، پس تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے بعد آنے والے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرو جسے تم پہچانتے ہو، اور اطاعت کو لازم پکڑو اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اسے اپنی ڈاڑھوں سے مضبوطی سے تھام لو۔“اس حدیث میں اسد بن وداعہ یہ اضافہ کرتے تھے کہ”بے شک مومن اس اونٹ کی طرح ہے جس کی ناک میں نکیل ہو، جہاں اسے لے جایا جائے وہ وہیں چلا جاتا ہے۔“[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 335]
