عربی (اصل)
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد بن[أبي]أيوب، أخبرني أبو صَخْر، عن نافع قال: كان لابن عمر صديقٌ من أهل الشام يكاتبُه، فكَتَبَ إليه عبدُ الله بن عُمر: أنه بَلَغَني أنك تكلَّمت في شيءٍ من القَدَر، فإياك أن تكتبَ إليَّ، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّه سيكون في أمَّتي أقوامٌ يكذِّبون بالقَدَر"(2).هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بأبي صخرٍ حميد بن زياد، ولم يُخرجاه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 285 - على شرط مسلم
انگریزی ترجمہ
Nafi' narrated: Ibn Umar had a friend from the people of Syria with whom he used to correspond. Abdullah ibn Umar wrote to him: "It has reached me that you have spoken about matters of al-Qadar (divine destiny). Do not write to me again, for I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'There will be people in my Ummah who will deny al-Qadar (divine destiny).'" This hadith is authentic upon the condition of Muslim, but the two Shaykhs did not include it.
اردو ترجمہ
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا شام میں ایک دوست تھا جس سے ان کی خط و کتابت رہتی تھی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط لکھا کہ: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم نے تقدیر کے بارے میں کچھ (غلط) باتیں کی ہیں، لہٰذا اب مجھے دوبارہ خط نہ لکھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:”عنقریب میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے ابوصخر حمید بن زیاد سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 288]
