عربی (اصل)
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكِهي بمكة، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأزرَقي، حدثنا مُسلم بن خالد، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين، عن ابن سابِطٍ، عن عمرو بن ميمون الأَوْدي قال: قام فينا معاذُ بن جبل فقال: يا بني أَوْدٍ، إني رسولُ رسولِ الله ﷺ، تعلمون! المَعَادُ إلى الله، ثم إلى الجنة أو إلى النار، وإقامةٌ لا ظَعْنَ فيها(2)، وخلودٌ لا موتَ، في أجسادٍ لا تموت(3).هذا حديث صحيح الإسناد، رواتُه مكِّيُّون، ومسلم بن خالد الزَّنْجي إمام أهل مكة ومُفتِيهم، إلّا أنَّ الشيخين قد نَسَبَاه إلى أنَّ الحديث ليس من صَنْعته، والله أعلم.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 281 - صحيح الإسناد
انگریزی ترجمہ
Amr ibn Maymun al-Awdi narrated: Mu'adh ibn Jabal stood among us and said: "O Banu Awd! I am the envoy of the Messenger of Allah (peace be upon him) to you. Know that the final return is to Allah, then either to Paradise or to the Fire — a permanent abode with no departure, and an eternity with no death, in bodies that will never perish."
اردو ترجمہ
عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے بنو اود! بے شک میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا قاصد ہوں، تم یہ جان لو! اللہ کی طرف لوٹنا برحق ہے، پھر وہاں سے جنت یا جہنم کا ٹھکانہ ہے، وہاں ایسی رہائش ہوگی جہاں سے پھر کہیں کوچ نہیں کرنا، اور ایسی ہمیشگی ہوگی جہاں موت نہیں آئے گی، ایسے جسموں کے ساتھ جو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی مکی ہیں، اور مسلم بن خالد زنجی اہلِ مکہ کے امام اور مفتی ہیں، البتہ شیخین نے ان کے بارے میں یہ رائے دی ہے کہ فنِ حدیث ان کا خاص شعبہ نہیں تھا، واللہ اعلم۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 284]
