عربی (اصل)
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الحارث بن حَصِيرة، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه(3)، عن عبد الله بن مسعود قال: قال لنا رسول الله ﷺ ونحن حولَه:"كيف أنتم رُبعَ أهل الجنة، لكم الربعُ ولسائر الأمم ثلاثةُ أرباعٍ" قال: قلنا: كثيرٌ يا رسول الله، قال:"كيف أنتم والثلثَ؟" قال: قلنا: ذلك أكثرُ، قال:"كيف أنتم والشَّطْرَ؟" قلنا: ذاك أكثرُ، قال:"أهلُ الجنة عشرون ومئةُ صفٍّ، أنتم منها ثمانون صفًّا" قال: قلنا: فذاكَ الثُّلثانِ يا رسول الله، قال:"أجَلْ"(1). عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه في أكثر الأقاويل(2).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 275 - لم يسمع عبد الرحمن من أبيه
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Mas'ud narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) said to us while we were around him: "How would you feel if you were a quarter of the people of Paradise — you would have a quarter and the rest of the nations would have three-quarters?" We said: "That is a lot, O Messenger of Allah!" He said: "How about a third?" We said: "That is even more!" He said: "How about half?" We said: "That is even more!" He said: "The people of Paradise will be one hundred and twenty rows; you will be eighty of them." We said: "That is two-thirds, O Messenger of Allah!"
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں فرمایا جبکہ ہم آپ کے ارد گرد جمع تھے:”کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟ تمہارے لیے چوتھائی حصہ ہے اور باقی تمام امتوں کے لیے تین چوتھائی۔“ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو بہت ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم تہائی ہو؟“ہم نے عرض کیا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم نصف ہو؟“ہم نے عرض کیا: یہ تو بہت ہی زیادہ ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، تم ان میں سے اسی صفیں ہو گے۔“ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو دو تہائی بنتا ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں! (ایسا ہی ہے)۔“عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود نے اکثر اقوال کے مطابق اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 278]
