عربی (اصل)
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة، عن أنس في قوله ﷿: ﴿عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى﴾[النجم: 14]، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"رُفِعَت لي سِدْرةٌ مُنتهاها في السماء السابعة، نَبِقُها مثلُ قِلَال هَجَرَ، وورقُها مثلُ آذان الفِيَلة، يخرج من ساقها نهرانِ ظاهرانِ ونهرانِ باطنان، قال: قلت: يا جبريل، ما هذانِ؟ قال: أمّا الباطنان، ففي الجنة، وأما الظاهران، فالنِّيلُ والفُرات"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. وله شاهد غريب من حديث شُعْبة عن قَتَادة عن أنس صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 271 - على شرطهما ولم يخرجاه بهذه السياقة
انگریزی ترجمہ
Anas narrated regarding Allah's saying: "At the Lote Tree of the Utmost Boundary" [al-Najm: 14], that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A Lote Tree was raised for me, its utmost boundary being in the seventh heaven. Its fruits are like the clay jugs of Hajar, and its leaves are like the ears of elephants. From its trunk flow two visible rivers and two hidden rivers. I asked: 'O Jibril, what are these?' He said: 'As for the two hidden ones, they are in Paradise. As for the two visible ones, they are the Nile and the Euphrates.'" This hadith is authentic upon the conditions of the two Shaykhs, but they did not include it with this wording.
اردو ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمان﴿عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى﴾[سورة النجم: 14]کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے لیے سدرۃ المنتہیٰ کو بلند کیا گیا جس کی انتہا ساتویں آسمان پر ہے، اس کے پھل مقامِ ہجر کے مٹکوں کی طرح (بڑے) ہیں اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں جیسے ہیں، اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی ہیں، دو ظاہر ہیں اور دو پوشیدہ۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: جہاں تک ان دو پوشیدہ نہروں کا تعلق ہے تو وہ جنت میں ہیں، اور دو ظاہر نہریں نیل اور فرات ہیں۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 274]
