عربی (اصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَختَريّ عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو أسامة، حدثني الحسين المعلِّم. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا ابن أبي عَدِيّ، عن حسين المعلِّم، عن عبد الله بن بُرَيدة قال: ذُكِرَ لي أنَّ أبا سَبْرةَ بن سَلَمة الهُذَلي سمع ابنَ زياد يسأل عن الحوضِ، حوضِ محمدٍ ﷺ، فقال: ما أُراه حقًّا، بعدما سأل أبا بَرْزةَ الأسلمي والبراءَ بن عازب وعائذَ بن عمرو، فقال: ما أُصدِّق هؤلاء، فقال أبو سَبْرة: ألا أحدِّثُك بحديث شِفاءٍ، بَعَثَني أبوك بمالٍ إلى معاوية، فلَقِيتُ عبدَ الله بن عمرو، فحدَّثني بفِيهِ وكتبتُه بقلمي ما سمعه من رسول الله ﷺ، فلم أَزِدْ حرفًا ولم أَنقُصْ، حدَّثني أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ ولا المتفحِّشَ، والذي نفسُ محمد بيده لا تقومُ الساعةُ حتى يَظهَرَ الفُحْشُ والتفحُّشُ وقطيعةُ الرَّحِم وسوءُ المجاوَرة، ويُخوَّنُ الأمينُ ويُؤتمنُ الخائن، ومَثَلُ المؤمن كمَثَل النَّحْلة أَكَلَت طيّبًا ووَضَعَت طيّبًا ووَقَعَت طيّبًا، فلم تُفسِدْ ولم تَكسِرْ، ومَثَلُ العبد المؤمن مَثَلُ القِطْعة الجيِّدة من الذهب، نُفِخَ عليها فخرجت طيّبةً، ووُزِنَت فلم تَنقُصْ"، وقال ﷺ:"مَوعِدُكم حوضي، عَرْضُه مثلُ طولِه، وهو أبعدُ ممّا بينَ أَيْلةَ إلى مكة، وذاك مسيرةُ شهرٍ، فيه أمثالُ الكواكبِ أباريقُ، ماؤُه أشدُّ بياضًا من الفضَّة، مَن وَرَدَه وشَرِبَ منه لم يَظمَأْ بعده أبدًا". فقال ابن زياد: ما حدَّثني أحدٌ بحديثٍ مثلِ هذا، أشهَدُ أنَّ الحوض حقٌّ واجبٌ. وأخذ الصحيفةَ التي جاء بها أبو سَبْرة(1). وفي حديث أبي أسامة عن عبد الله بن بُرَيدة عن أبي سَبْرة.هذا حديث صحيح، فقد اتَّفق الشيخانِ على الاحتجاج بجميع رُوَاته غير أبي سَبْرة الهُذَلي، وهو تابعيٌّ كبير، مبيَّن ذِكرُه في المسانيد والتواريخ، غيرُ مطعونٍ فيه. وله شاهد من حديث قَتَادة عن ابن بُرَيدة:
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Buraydah narrated: I was told that Abu Sabrah ibn Salamah al-Hudhali heard Ibn Ziyad asking about the Hawd (Pool) of Muhammad (peace be upon him). Ibn Ziyad said: "I do not believe it is real," even after he had asked Abu Barzah al-Aslami, al-Bara' ibn 'Azib, and 'A'idh ibn Amr (who all affirmed it). He said: "I do not believe these people." Abu Sabrah then said: "Shall I not narrate to you a hadith that will cure (your doubt)? Your father sent me with wealth to Amir Mu'awiyah. I met Umm Haram, and she told me that she heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'The first of the armies from my Ummah to raid the sea have guaranteed themselves (Paradise).' Then she asked about another army, and the Prophet (peace be upon him) said: 'They are among them.'" Then Abu Sabrah told Ibn Ziyad: "Now these people have told you something that I have also heard directly."
اردو ترجمہ
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ ابوسبرہ بن سلمہ ہذلی نے ابنِ زیاد کو حوضِ محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا، تو ابنِ زیاد نے کہا: میں اسے برحق نہیں سمجھتا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ابوبرزہ اسلمی، براء بن عازب اور عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے پوچھ چکا تھا لیکن کہنے لگا: میں ان لوگوں کی تصدیق نہیں کرتا؛ تو ابوسبرہ نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی حدیث نہ سناؤں جو (شک سے) شفا بخش دے؟ تمہارے والد نے مجھے مال دے کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تھا، وہاں میری ملاقات عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہوئی، تو انہوں نے مجھے اپنی زبان سے یہ حدیث سنائی اور میں نے اپنے قلم سے اسے ویسے ہی لکھ لیا جیسا انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا تھا، میں نے اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں کی؛ انہوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک اللہ تعالیٰ بدگوئی کرنے والے اور فحش بکنے والے کو پسند نہیں فرماتا، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمدصلی اللہ علیہ وسلمکی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک فحش گوئی، بے حیائی، قطع رحمی اور پڑوسیوں سے برا سلوک عام نہ ہو جائے، امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار سمجھا جانے لگے؛ اور مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے کہ وہ ستھری چیز کھاتی ہے، ستھری چیز (شہد) نکالتی ہے اور ستھری جگہ پر بیٹھتی ہے، نہ وہ (پھول کو) خراب کرتی ہے اور نہ توڑتی ہے؛ اور مومن بندے کی مثال سونے کے اس عمدہ ٹکڑے جیسی ہے جسے (بھٹی میں) تپایا جائے تو وہ کھرا نکلتا ہے اور اگر اسے تولا جائے تو اس کے وزن میں کوئی کمی نہیں آتی“، اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہارے ملنے کی جگہ میرا حوض ہے، جس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اور وہ اَیْلَہ سے مکہ کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ وسیع ہے، یہ ایک ماہ کی مسافت ہے، اس پر ستاروں کی مانند چمکدار صراحیاں ہیں، اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہے، جو وہاں آئے گا اور اس سے ایک بار پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“تو ابنِ زیاد نے کہا: مجھے کسی نے اس جیسی حدیث نہیں سنائی، میں گواہی دیتا ہوں کہ حوض برحق اور واجب ہے، پھر اس نے وہ صحیفہ لے لیا جو ابوسبرہ لائے تھے۔یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے ابوسبرہ ہذلی کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج پر اتفاق کیا ہے، وہ ایک بڑے تابعی ہیں جن کا ذکر مسانید اور تاریخ کی کتب میں موجود ہے اور وہ غیر مطعون ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 255]
