عربی (اصل)
حدثنا بصحَّة ما ذكرتُه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شَقيق قال: جلستُ إلى قوم أنا رابعُهم، فقال أحدهم: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليَدخُلَنَّ الجنةَ بشفاعةِ رجلٍ من أمتي أكثرُ من بني تَميمٍ" قال: قلنا: سِواكَ يا رسول الله؟ قال:"سِوايَ". قلت: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، فلمّا قام قلتُ: مَن هذا؟ قالوا: هذا ابنُ أبي الجَدْعاء(3).هذا حديث صحيح قد احتجَّا برُواتِه، وعبدُ الله بن شقيق تابعيٌّ محتَجٌّ به، وإنما تَرَكاه لما قدَّمنا ذِكرَه من تفرُّد التابعي عن الصحابي(4).
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Shaqiq narrated: I was sitting with a group of people and I was the fourth among them. One of them said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Through the intercession of one man from my Ummah, more than the number of Banu Tamim will enter Paradise." We asked: "O Messenger of Allah, someone other than you?" He said: "Other than me." I asked him: "Did you yourself hear this from the Messenger of Allah (peace be upon him)?" He said: "Yes." When he stood up, I asked: "Who was that?" They said: "That is Ibn Abi al-Jad'a." This hadith is authentic; the two Shaykhs relied on its narrators.
اردو ترجمہ
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ میں ایک جماعت کے پاس بیٹھا تھا اور میں چوتھا شخص تھا، تو ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:”میری امت کے ایک شخص کی شفاعت سے بنو تمیم (قبیلے) سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“ہم نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کیا آپ کے علاوہ کوئی اور شخص؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں، میرے علاوہ کوئی اور۔“میں (عبداللہ بن شقیق) نے پوچھا: کیا آپ نے خود اسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ جب وہ صاحب چلے گئے تو میں نے پوچھا کہ یہ کون تھے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ (صحابی رسول) ابن ابی الجدعاء تھے۔یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری و مسلم نے اس کے راویوں سے استدلال کیا ہے، اور عبداللہ بن شقیق ایک ایسے تابعی ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے، ان دونوں (شیخین) نے اسے محض اس لیے چھوڑ دیا کہ جیسا ہم نے پہلے ذکر کیا کہ ایک ہی تابعی کا ایک صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (ان کے معیار کے خلاف تھا)۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 238]
