عربی (اصل)
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد، أخبرنا عبد الرزاق. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري وأبو بكر بن زَنجَوَيهِ وأبو بكر بن عَسكَر وإسحاق بن رُزيق، قالوا: حدثنا عبد الرزاق. وحدثنا عليٌّ، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن يوسف السُّلَمي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ثابت، عن أنس، عن النبي ﷺ قال:"شفاعتي لأهلِ الكبائرِ من أمَّتي"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما خرَّجا حديث قَتَادة عن أنس بطوله(2)، ومن تَوهَّم أنَّ هذه لفظة من الحديث(3)فقد وَهِم، فإنَّ هذه شفاعة فيها قَمْعُ المبتدِعة المفرِّقة بين الشفاعة لأهل الصغائر والكبائر. وله شاهدٌ بهذا اللفظ عن قتادة وأشعثَ بن جابر الحُدَّاني. أما حديث قتادة:
انگریزی ترجمہ
Anas narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "My intercession is for those of my Ummah who commit major sins." This hadith is authentic upon the conditions of the two Shaykhs, but they did not include it with this wording. This narration refutes those innovators who differentiate between intercession for those who commit minor and major sins.
اردو ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے قتادہ کی طویل حدیث روایت کی ہے۔ جس کسی کو یہ وہم ہو کہ یہ الفاظ اسی طویل حدیث کا حصہ ہیں تو وہ غلطی پر ہے، کیونکہ یہ (مختصر) شفاعت والی روایت ان بدعتیوں کے رد میں ہے جو صغیرہ اور کبیرہ گناہگاروں کی شفاعت کے درمیان فرق کرتے ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 229]
