عربی (اصل)
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا بشر بن حُجْر السَّامِي(1)، حدثنا عبد العزيز بن أبي سَلَمة، عن محمد بن المنكدر قال: التقى عبدُ الله بن عباس وعبد الله بن عمرو بن العاص، فقال له عبد الله بن عباس: أيُّ آيةٍ في كتاب الله أَرجى عندك؟ قال عبد الله بن عمرو: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾[الزمر:53]، فقال: لكن قول إبراهيم: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾[البقرة: 260]، هذا لما في الصُّدور ويُوَسوسُ الشيطانُ، فَرَضِيَ اللهُ من قول إبراهيم بقوله: ﴿أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى﴾[البقرة: 260](2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 198 - فيه انقطاع
انگریزی ترجمہ
Muhammad ibn al-Munkadir narrated: Abdullah ibn Abbas and Abdullah ibn Amr ibn al-'As met, and Ibn Abbas asked him: "Which verse in the Book of Allah gives you the most hope?" Abdullah ibn Amr said: "The verse: 'O My servants who have transgressed against themselves, do not despair of the mercy of Allah' [al-Zumar: 53]." Ibn Abbas said: "But for me it is the saying of Ibrahim (Abraham): 'My Lord, show me how You give life to the dead.' He said: 'Have you not believed?' He said: 'Yes, but to reassure my heart' [al-Baqarah: 260]. This is Ibrahim's acceptance of the whisper of his heart (the momentary doubt one may feel), and this satisfies me regarding what the soul may whisper to itself."
اردو ترجمہ
سیدنا محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی ملاقات ہوئی، تو ابن عباس نے ان سے پوچھا: آپ کے نزدیک کتاب اللہ کی سب سے زیادہ امید افزا آیت کون سی ہے؟ عبداللہ بن عمرو نے کہا:﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو“[الزمر: 53]، تو ابن عباس نے فرمایا: لیکن میرے نزدیک (سب سے زیادہ امید افزا) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول ہے:﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾”اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟ فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں؟ عرض کیا: کیوں نہیں! لیکن اس لیے (پوچھ رہا ہوں) تاکہ میرے دل کو اطمینان ہو جائے“[البقرة: 260]، پس اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے جواب«بَلَى»(کیوں نہیں!) کو پسند فرمایا (اور یہ ان وسوسوں کا علاج ہے جو شیطان دلوں میں ڈالتا ہے)۔یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 199]
