عربی (اصل)
حدَّثناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، حدثنا موسى بن محمد بن حَيَّان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن هُشَيم، عن إسماعيل، عن قيس، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"إذا كان أجَلُ أحدِكم بأرض، جُعِلَت له إليها حاجَةٌ فيُوفِّيه الله بها، فتقول الأرض يوم القيامة: ربِّ هذا ما استَودَعتَنى"(2). فقد أسند هذا الحديث ثلاثةٌ من الثِّقات عن إسماعيل، ووَقَفَه(3)عنه سفيان بن عيينة، فنحن على ما شَرَطْنا في إخراج الزيادة من الثِّقة في الوصل والسَّنَد. ثم لهذا الحديث شواهد على شرط الشيخين، فمنها:
انگریزی ترجمہ
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (peace be upon him): "The key to Paradise is the testimony that there is no god but Allah."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت کسی سرزمین پر آ جائے، تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت پیدا کر دی جاتی ہے اور اللہ اسے اسی کے ذریعے وہاں پورا کر دیتا ہے، پھر قیامت کے دن زمین عرض کرتی ہے: اے میرے رب! یہ تیری وہ امانت ہے جو تو نے میرے حوالے کی تھی۔“اس حدیث کو تین ثقہ راویوں نے اسماعیل سے مسنداً روایت کیا ہے، جبکہ سفیان بن عیینہ نے اسے موقوفاً بیان کیا ہے، اور ہماری شرط ثقہ راوی کی سند اور وصل میں زیادتی کو قبول کرنا ہے۔ اس حدیث کے شیخین کی شرط پر شواہد بھی موجود ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 125]
