عربی (اصل)
فحدثنا أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا معاوية بن عمرو الأزدي، حدثنا زائدة، عن الأعمش، عن المنهال بن عمرو، عن زاذانَ، عن البراء قال: صَلَّينا مع رسول الله ﷺ على جنازةِ رجلٍ من الأنصار، فذكر حديثَ القبر بطوله(4).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا جميعًا بالمنهال بن عمرو وزاذان أبي عمر الكِنْدي(1). وفي هذا الحديث فوائدُ كثيرةٌ لأهل السُّنة وقمعٌ للمبتدِعة، ولم يُخرجاه بطوله(2). وله شواهد على شرطهما يُستدَلُّ بها على صحته:
انگریزی ترجمہ
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Three qualities, whoever has them will find the sweetness of faith: that Allah and His Messenger are more beloved to him than anything else; that he loves a person only for the sake of Allah; and that he hates to return to disbelief just as he hates to be thrown into the Fire."
اردو ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے قبر کے احوال والی طویل حدیث ذکر کی۔یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ان دونوں نے منہال بن عمرو اور زاذان ابو عمر کندی سے احتجاج کیا ہے، اور اس حدیث میں اہل سنت کے لیے بہت سے فوائد اور بدعتیوں کے لیے رد ہے، تاہم ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے اس قدر طوالت کے ساتھ روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 111]
