عربی (اصل)
حدثني محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا الأعمش، فذكره بإسناده نحوه، وقال في آخره: وحدثنا علي بن المنذر في عَقِبِ خبره، حدثنا ابن فضيل، حدثني أَبي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة نحوًا من هذا الحديث؛ يريد حديث البراءِ، إلَّا أنه قال:"ارقُدْ رِقْدةَ المتَّقين" للمؤمن الأول، ويقال للفاجر:"ارقُدْ منهوشًا، فما من دابَّةٍ في الأرض إلَّا ولها في جسدِه نصيبٌ"(2). وقد رواه سفيان بن سعيد وشُعْبة بن الحَجَّاج وزائدة بن قُدَامة - وهم الأئمة الحفّاظ - عن الأعمش. أما حديث الثَّوري:
انگریزی ترجمہ
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "None of you truly believes until I am more beloved to him than his child, his father, and all of mankind." Al-Hakim noted this is in the two Sahihs from Qatadah from Anas.
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے براء بن عازب کی سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، مگر اس کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ (مومن سے کہا جاتا ہے):”ایسے سو جاؤ جیسے متقی لوگ سوتے ہیں“، اور فاجر کے بارے میں کہا جاتا ہے:”ایسے سو جاؤ جیسے وہ سوتا ہے جسے ڈسا گیا ہو، کیونکہ زمین کا کوئی بھی جانور ایسا نہیں ہوگا جس کا اس کے جسم میں حصہ (یعنی اسے ڈسنے کا عمل) نہ ہو۔“اس حدیث کو سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج اور زائدہ بن قدامہ جیسے ائمہ حفاظ نے اعمش سے روایت کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 108]
