انگریزی ترجمہ
Muhammad bin Qays said one day: Shall I not tell you my saying and my mother's saying? We thought that perhaps by "mother" he meant the one who bore him. Then he said: The Mother of the Believers Aishah al-Siddiqah (may Allah be pleased with her) said: Shall I tell you my saying and the saying of the Messenger of Allah (peace be upon him)? We said: Certainly. She said: One night the Prophet (peace be upon him) was with me, and he turned on his side, laid aside his cloak, took off his sandals and placed them by his feet, spread the edge of his cloak on his bed, and lay down. He stayed a little while, thinking that I had fallen asleep. Then he quietly took his cloak, quietly put on his sandals, quietly opened the door, went out, and then quietly closed it. I too took my cloak and drew it over my head and veiled myself, and set out behind him, until he reached al-Baqi and stood for a long time. Then he raised both his hands three times and turned back, so I too turned back. And when he walked quickly, I too walked quickly, and he ran and I too ran, and he came home and I too came, but I arrived before him, and as soon as I entered the house I lay down. When he came into the house he said: O Aishah! What is the matter with you that your breath is panting and your belly is swollen? I said: It is nothing. He said: Tell me, or else that Subtle, All-Aware One (that is, Allah) will inform me. I said: May my father and mother be ransomed for you. Then I informed him (that is, told him the whole matter), so he said: Was that shadow which appeared before me you? I said: Yes. Then he struck me on the chest with a nudge (this was out of affection) that caused me pain, and said: Did you think that Allah and His Messenger would wrong you of your right (that is, that on your night I would go to some other wife)? Then I said: Whatever thing people conceal, Allah knows it (that is, even if you had gone to some other wife, Allah would have been watching). He said: Jibril, peace be upon him, came to me when you saw me (rising). He called me and concealed it from you, so I too wished to conceal it from you. And he had not come to you because you had taken off your outer garment (in order to sleep), and I thought you were asleep, so I disliked to wake you, and I also feared that you would be alarmed, wondering where I had gone. Then Jibril, peace be upon him, said: Your Lord commands you to go to al-Baqi and seek forgiveness for the people of al-Baqi. I said: O Messenger of Allah! How should I say it? He said: Say: "Peace be upon the people of Islam and the believing dwellers, and may Allah have mercy on those who have gone before us and those who come later, and if Allah wills, we too shall (die and) join you." [Mukhtasar Sahih Muslim/Hadith: 497]
اردو ترجمہ
محمد بن قیس نے ایک دن کہا کہکیا میں تمہیں اپنی بات اور اپنی ماں کی بات نہ سناؤں؟ ہم نے یہ خیال کیا کہ شاید ماں سے وہ مراد ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ پھر انہوں نے کہا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں تم کو اپنی اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بات سناؤں؟ ہم نے کہا کہ ضرور۔ انہوں نے کہا کہ ایک رات نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلممیرے پاس تھے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کروٹ لی اور اپنی چادر رکھی اور جوتا نکال کر اپنے پاؤں کے آگے رکھا اور چادر کا کنارہ اپنے بچھونے پر بچھایا اور لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر اس خیال سے ٹھہرے رہے کہ گمان کر لیا کہ میں سو گئی ہوں۔ پھر آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور آہستہ سے دروازہ کھولا، نکلے اور پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ میں نے بھی اپنی چادر لی اور سر پر اوڑھی اور گھونگھٹ، اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پیچھے چل پڑی یہاں تک کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمبقیع پہنچے اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر دونوں ہاتھ تین بار اٹھائے اور پھر لوٹے تو میں بھی لوٹی۔ اور آپصلی اللہ علیہ وسلمجلدی چلے تو میں بھی جلدی چلی اور آپصلی اللہ علیہ وسلمدوڑے اور میں بھی دوڑی اور آپصلی اللہ علیہ وسلمگھر آ گئے اور میں بھی آ گئی مگر آپصلی اللہ علیہ وسلمسے آگے آئی اور گھر میں آتے ہی لیٹ گئی۔ جب آپصلی اللہ علیہ وسلمگھر میں آئے تو فرمایا کہ اے عائشہ! تمہیں کیا ہوا کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے اور پیٹ پھولا ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ کچھ نہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ بتا دو نہیں تو وہ باریک بین خبردار (یعنی اللہ تعالیٰ) مجھے خبر کر دے گا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ پھر میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو خبر دی (یعنی ساری بات بتا دی) تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ ایک سایہ سا جو میرے آگے نظر آتا تھا، وہ تم ہی تھیں؟ میں نے کہا جی ہاں، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے میرے سینے پر گھونسا مارا (یہ محبت سے تھا) کہ مجھے درد ہوا اور فرمایا کہ تو نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا؟ (یعنی تمہاری باری میں میں اور کسی بیوی کے پاس چلا جاؤں گا) تب میں نے کہا کہ جب لوگ کوئی چیز چھپاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے (یعنی اگر آپ کسی اور بیوی کے پاس جاتے تو بھی اللہ تعالیٰ دیکھتا تھا) آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے جب تو نے (مجھے اٹھتے ہوئے) دیکھا۔ انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، تو میں نے بھی چاہا کہ تم سے چھپاؤں۔ اور وہ تمہارے پاس نہیں آئے تھے کہ تم نے (سونے کی غرض سے) اپنا زائد کپڑا اتار دیا تھا اور میں سمجھا کہ تم سو گئیں، سو میں نے برا جانا کہ تمہیں جگاؤں اور یہ بھی خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گئی کہ کہاں چلے گئے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ تمہارا پروردگار حکم فرماتا ہے کہ تم بقیع کو جاؤ اور اہل بقیع کے لئے مغفرت مانگو۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں کیسے کہوں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ کہو”اہل اسلام اور ایماندار گھر والوں پر سلام ہے اور اللہ تعالیٰ رحمت کرے ہم سے آگے جانے والوں پر اور پیچھے جانے والوں پر اور اللہ نے چاہا تو ہم بھی (فوت ہو کر) تم سے ملنے والے ہیں“۔[مختصر صحيح مسلم/حدیث: 497]
