انگریزی ترجمہ
Sayyiduna Abu Hurayra (may Allah be pleased with him) said: When this verse was revealed to the Messenger of Allah (peace be upon him): "To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth..." — meaning, "Whatever is in the heavens and the earth is all Allah's. Whether you disclose what is in your hearts or conceal it, Allah will call you to account for it, then He will forgive whom He wills and punish whom He wills, and Allah has power over all things" — this verse weighed very heavily upon the Companions. They came to the Prophet (peace be upon him) and knelt down on their knees, then said: O Messenger of Allah! We were formerly charged with deeds we were capable of — prayer, fasting, jihad, charity, and the like. Now this verse has been revealed to you, and we have no power over it. The Prophet (peace be upon him) said: Do you wish to say what the People of the two Books before you (the Jews and Christians) said: "We hear and we disobey"? Rather you should say: "We hear and we obey. Our Lord, we seek Your forgiveness, and to You is the return." So the Companions said: We hear and we obey; we seek forgiveness for our sins, our Lord; and to You is the return. When the Companions began to recite this and their tongues became at ease with it, Allah revealed these verses: "The Messenger has believed in what was revealed to him from his Lord..." — meaning: "The Messenger of Allah (peace be upon him) believed in (the Shariah) revealed to him from his Lord, and the believers too believed; all of them believed in Allah, His angels, His books, and His messengers, (saying:) We make no distinction between any of His messengers (we believe in all the messengers — not that we believe in one messenger and reject another); and they said: We hear and we obey; our Lord, we seek Your forgiveness, and to You is the return." When the Companions did this (recited these verses with a sincere heart), Allah abrogated the verse "And whether you disclose what is in yourselves..." and revealed the verse "Allah does not burden a soul beyond its capacity" — meaning: "Allah does not burden any soul beyond its capacity; for it is what it has earned, and against it is what it has earned. Our Lord, do not lay upon us a burden like that which You laid upon those before us" — then Allah said: "Yes." — "Our Lord, do not make us bear that which we have no strength to bear" — then Allah said: "Yes." — "And pardon us, forgive us, and have mercy upon us; You are our Protector, so help us against the disbelieving people" — then Allah, the Exalted, said: "Yes."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہجب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر یہ آیت: نازل ہوئی ((ﷲ ما فی السّمٰوات وما فی الارض ....)) یعنی”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ تم اس بات کو ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا چھپائے رکھو، اللہ تعالیٰ تم سے حساب لے لے گا، پھر جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے“نازل ہوئی تو یہ آیت صحابہ کرام پر بہت ہی سخت گزری۔ وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ پھر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! (پہلے تو) ہم نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ وغیرہ ایسے اعمال کے مکلف بنائے گئے تھے (جن پر طاقت رکھتے تھے)، اور اب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس کی تو ہم طاقت ہی نہیں رکھتے۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کیا تم ویسی ہی بات کہنا چاہتے ہو جیسی تم سے پہلے دو کتابوں والوں (یہود و نصاریٰ) نے کہی تھی (یعنی انہوں نے کہا)”سمعنا و عصینا“کہ ہم نے (اللہ اور رسول کی بات کو) سن تو لیا ہے لیکن مانتے نہیں ہیں، بلکہ آپ لوگوں کو یوں کہنا چاہئے کہ ہم نے (اللہ کی اور رسول کی بات کو) سن لیا اور مان لیا۔ اے ہمارے رب ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور ہماری واپسی تیری طرف ہے۔ تو صحابہ کرام نے یہی کہا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا ہم اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف واپسی ہے۔ جب صحابہ کرام نے اس کو پڑھنا شروع کیا تو اس کے پڑھنے سے ان کی زبانوں کو سہولت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں ((اٰمن الرّسول بما انزل الیہ ....)) یعنی”رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس (شریعت) کے ساتھ ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کی گئی اور مومن لوگ بھی ایمان لائے اور سب کے سب ایمان لائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ (سب کے سب کہتے ہیں) کہ ہم اللہ کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے (سب رسولوں کو مانتے ہیں یہ نہیں کہ کسی رسول کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں) اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور مان لیا، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف واپسی ہے“۔ جب صحابہ کرام نے یہ کیا (یعنی ان آیات کو پڑھا اور سچے دل سے پڑھا) تو اللہ تعالیٰ نے آیت ((وان تبدوا ما فی انفسکم ....)) آیت کو منسوخ کر دیا اور آیت ((لا یکلّف اﷲ نفسًا....)) اتار دی یعنی”اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف میں نہیں ڈالتا، اس (نفس) کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور اس کے خلاف بھی وہی کچھ ہو گا جو اس نے کمایا، اے ہمارے رب! ہم پر ویسا بوجھ نہ رکھنا جیسا کہ ہم سے پہلے والوں پر رکھا تھا تو اللہ نے فرمایا”ہاں“۔ اے ہمارے رب! ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوانا جس کی ہم میں اٹھانے کی طاقت نہ ہو تو اللہ نے فرمایا”ہاں“۔ اور ہمیں معاف کر دے، ہمیں بخش دے، ہم پر رحم کر تو ہمارا دوست یا مالک ہے، پس تو کافر قوم پر ہماری مدد فرما تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا”ہاں“۔[مختصر صحيح مسلم/حدیث: 2125]
