انگریزی ترجمہ
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that some people from the tribe of Abd al-Qays came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, we are a branch of the Rabi'ah tribe, and between us and you are the disbelievers of Mudar. We cannot come to you except during the sacred months, so command us with something that we may convey to those who are behind us and by which we may enter Paradise." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I command you with four things and forbid you from four things: worship Allah alone and associate nothing with Him, establish the prayer, pay the zakah, fast the month of Ramadan, and give one-fifth of the war spoils. And I forbid you from four things: dried gourds, green-glazed jars, varnished vessels, and hollowed-out tree trunks (naqir)." They said: "O Messenger of Allah, do you know what naqir is?" He said: "Of course — it is a tree trunk that you hollow out, then soak dates or small dates in it, then add water. When its fermentation subsides, you drink it until one of you strikes his cousin with a sword." A man among them had a wound from such an incident, which he was hiding out of embarrassment before the Messenger of Allah. I asked: "O Messenger of Allah, then in what vessels should we drink?" He said: "In leather waterskins whose mouths are tied." They said: "O Messenger of Allah, our land has many mice; leather waterskins cannot survive." He said: "Drink from leather waterskins even if the mice chew them, even if the mice chew them, even if the mice chew them." The Messenger of Allah (peace be upon him) said to al-Ashajj of Abd al-Qays: "You possess two qualities that Allah loves: forbearance and patience."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہکچھ لوگ عبدالقیس (قبیلہ عبدالقیس) کے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم ربیعہ کی ایک شاخ ہیں، اور ہمارے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکے بیچ میں قبیلہ مضر کے کافر ہیں اور ہم آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس حرام مہینوں کے علاوہ (کسی اور مہینے میں) نہیں آ سکتے تو ہمیں ایسے کام کا حکم کیجئے کہ جسے ہم ان لوگوں کو بتلائیں جو ہمارے پیچھے (رہ گئے) ہیں اور ہم اس کام کی وجہ سے جنت میں جائیں، جب کہ ہم اس پر عمل کریں۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم کرتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن چار چیزوں کا حکم کرتا ہوں وہ یہ ہیں کہ) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو اور غنیمت کے مالوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمہیں چار چیزوں سے منع کرتا ہوں۔ کدو کے تونبے اور سبز لاکھی برتن اور روغنی برتن اور نقیر سے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! نقیر آپ نہیں جانتے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کیوں نہیں جانتا، نقیر ایک لکڑی ہے، جسے تم کھود لیتے ہو، پھر اس میں قطیعا (ایک قسم کی چھوٹی کھجور، اس کو شریر بھی کہتے ہیں) بھگوتے ہو۔ سعید نے کہا یا”تمر“بھگوتے ہو۔ پھر اس میں پانی ڈالتے ہو۔ جب اس کا جوش تھم جاتا ہے تو اس کو پیتے ہو یہاں تک کہ تم میں سے ایک اپنے چچا کے بیٹے کو تلوار سے مارتا ہے (نشہ میں آ کر جب عقل جاتی رہتی ہے تو دوست دشمن کی شناخت نہیں رہتی، اپنے بھائی کو جس کو سب سے زیادہ چاہتا ہے تلوار سے مارتا ہے۔ شراب کی برائیوں میں سے یہ ایک بڑی برائی ہے، جسے آپ نے بیان کیا) راوی نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں اس وقت ایک شخص موجود تھا (جس کا نام جہم تھا) اس کو اسی نشہ کی وجہ سے ایک زخم لگ چکا تھا اس نے کہا لیکن میں اس کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے شرم کے مارے چھپاتا تھا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! پھر کس برتن میں ہم شربت پئیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ چمڑے کی مشقوں میں پیو، جن کا منہ (ڈوری یا تسمے سے) باندھا جاتا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہمارے ملک میں چوہے بہت ہیں، وہاں چمڑے کے برتن نہیں رہ سکتے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا چمڑے کے برتنوں میں پیو اگرچہ چوہے ان کو کاٹ ڈالیں، اگرچہ ان کو چوہے کاٹ ڈالیں، اگرچہ ان کو چوہے کاٹ ڈالیں۔ (یعنی جس طور سے ہو سکے چمڑے ہی کے برتن میں پیو، چوہوں سے حفاظت کرو لیکن ان برتنوں میں پینا درست نہیں کیونکہ وہ شراب کے برتن ہیں) راوی نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے عبدالقیس کے اشج سے فرمایا کہ تجھ میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، ایک تو عقلمندی اور دوسری سہولت اور اطمینان۔ (یعنی جلدی نہ کرنا)۔[مختصر صحيح مسلم/حدیث: 15]
