عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللاَّتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ - قَالَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ - قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ - أَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى ثَوْبِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلاً .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Umm Qais bint Mihsan (may Allah be well pleased with her) — she was among the earliest female emigrants who took the oath of allegiance to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and she was the sister of Hadrat 'Ukkasha bin Mihsan (may Allah be well pleased with him), one amongst the sons of Asad bin Khuzaima — reported that she came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) with her son and he had not attained the age of eating food. She told me that her son passed urine in the lap of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent for water and sprayed it over his garment (over that part which was contaminated with the urine of the child) and he did not wash it thoroughly.
اردو ترجمہ
یونس بن یزید نے کہا: مجھے ابن شہاب نے خبر دی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے (وہ جو سب سے پہلے ہجرت کرنے والی ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی اور حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بنو اسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں، کی بہن تھیں) روایت کی، کہا: انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنا بیٹا لے کر حاضر ہوئیں جو ابھی اس عمر کو نہ پہنچا تھا کہ کھانا کھا سکے۔ (ابن شہاب کے استاد) عبید اللہ نے کہا: انہوں (حضرت ام قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے مجھے بتایا کہ میرے اس بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر بہا دیا اور اسے اچھی طرح دھویا نہیں۔
