عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَى نَاقَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَتَضَايَقَ بِهِمُ الْجَبَلُ فَقَالَتْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا . قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصَاحِبُنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Burza al-Aslami reported that a slave-girl was riding a dromedary and there was also the luggage of people upon it. that she suddenly saw Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). The way of the mountain was narrow and she said (to that dromedary):Go ahead (but that dromedary did not move). She (that slave-girl), out of anger, said: O Allah, let that (dromedary) be damned. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Let the dromedary on which the curse has been invoked not proceed with us
اردو ترجمہ
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک باندی ایک اونٹنی پر سوار تھی جس پر لوگوں کا کچھ سامان بھی لدا ہوا تھا ، اچانک اس نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ، اس وقت پہاڑ ( کے درے نے ) گزرنے والوں کا راستہ تنگ کر دیا تھا ۔ اس باندی نے ( اونٹنی کو تیز کرنے کے لیے زور سے ) کہا : چل ( تیز چلو تاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچ جائیں ، جب وہ اونٹنی تیز نہ ہوئی تو کہنے لگی : ) اے اللہ! اس پر لعنت بھیج ( حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " وہ اونٹنی جس پر لعنت ہو ہمارے ساتھ ( شریک سفر ) نہ ہو ۔
