عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَنَاوَلَتْهُ إِنَاءً فِيهِ شَرَابٌ - قَالَ - فَلاَ أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا أَوْ لَمْ يُرِدْهُ فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas reported that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) went to Umm Aiman and I went along with him and she served him a drink in a vessel and he reported that the narrator said:I do not know whether it was because of the fasting (or for any other reason) that he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) refused to accept that. She raised her voice and showed annoyance to him
اردو ترجمہ
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، میں بھی آ پ کے ساتھ گیا ، انھوں نے آپ کے ہاتھ میں ایک برتن دیا جس میں مشروب تھا ۔ کہا : تو مجھے معلوم انھوں نے اچانک روزے کی حالت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ( وہ مشروب ) پکڑا دیا تھا یا آپ اسے پینا نہیں چاہتے تھے ، ( آپ نے پینے میں تردد فرمایا ) تو وہ آپ کے سامنے زور زور سے بولنے اور غصے کا اظہار کرنے لگیں ( جس طرح ایک ماں کرتی ہے ۔)
