Hadrat Jabir reported:the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may peace he upon him) sent us (on an expedition) and appointed Abu 'Ubaida our chief that we might intercept a caravan of the Quraish and provided us with a bag of dates. And he found for us nothing besides it. Abu Ubaida gave each of us one date (everyday). I (Abu Hadrat Zubair, one of the narrators) said: What did you do with that? He said: We sucked that just as a baby sucks and then drank water over that, and it sufficed us for the day until night. We beat off leaves with the help of our staffs, then drenched them with water and ate them. We then went to the coast of the sea, and there rose before us on the coast of the sea something like a big mound. We came near that and we found that it was a beast, called al-'Anbar (spermaceti whale). Abu 'Ubaida said. It is dead. He then said: No (but it does not matter), we have been sent by the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in the path of Allah and you are hard pressed (on account of the scarcity of food), so you eat that. We three hundred in number stayed there for a month, until we grew bulky. He (Hadrat Jabir) said: I saw how we extracted pitcher after pitcher full of fat from the cavity of its eye, and sliced from it compact piece of meat equal to a bull or like a bull. Abu 'Ubaida called forth thirteen men from us and he made them sit in the cavity of its eye, and he took hold of one of the ribs of its chest and made it stand and then saddled the biggest of the camels we had with us and it passed under it (the arched rib), and we provided ourselves with pieces of boiled meat (especially for use in our journey). When we came back to Medina, we went to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and made a mention of that to him, whereupon he said: That was a provision which Allah had brought forth for you. Is there any piece of meat (left) with you, so tnat you give to us that? He (Hadrat Jabir) said: We sent to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) tome of that (a piece of meat) and he ate it
اردو ترجمہ
ابو حضرت زبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امارت میں قریش کے ایک قافلے کو ملنے ( یعنی ان کے پیچھے ) اور ہمارے سفر خرچ کے لئے کھجور کا ایک تھیلہ دیا اور کچھ آپ کو نہ ملا کہ ہمیں دیتے ۔ سیدنا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں ایک ایک کھجور ( ہر روز ) دیا کرتے تھے ۔ حضرت ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم ایک کھجور میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو بچے کی طرح چوس لیا کرتے تھے ، پھر اس پر تھوڑا پانی پی لیتے تھے ، وہ ہمیں سارا دن اور رات کو کافی ہو جاتا اور ہم اپنی لکڑیوں سے پتے جھاڑتے ، پھر ان کو پانی میں تر کرتے اور کھاتے تھے ۔ سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو وہاں ایک لمبی اور موٹی سی چیز نمودار ہوئی ۔ ہم اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک جانور ہے جس کو عنبر کہتے ہیں ۔ سیدنا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ مردار ہے ( یعنی حرام ہے ) ۔ پھر کہنے لگے کہ نہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور تم ( بھوک کی وجہ سے ) مجبور ہو چکے ہو تو اس کو کھاؤ ۔ سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور ہم تین سو آدمی تھے ۔ اس کا گوشت کھاتے رہے ، یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے ۔ سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے چربی کے گھڑے کے گھڑے بھرتے تھے اور اس میں سے بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے ۔ آخر سیدنا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا ، وہ سب اس کی آنکھ کے حلقے کے اندر بیٹھ گئے ۔ اور اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی اٹھا کر کھڑی کی ، پھر جو اونٹ ہمارے ساتھ تھے ، ان میں سے سب سے بڑے اونٹ پر پالان باندھی تو وہ اس کے نیچے سے نکل گیا اور ہم نے اس کے گوشت میں سے زادراہ کے لئے وشائق بنا لئے ( وشائق ابال کر خشک کئے ہوئے گوشت کو کہتے ہیں ، جو سفر کے لئے رکھتے ہیں ) ۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ قصہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رزق تھا جو اس نے تمہارے لئے نکالا تھا ۔ اب تمہارے پاس اس گوشت کا کچھ حصہ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ۔ سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم نے اس کا گوشت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھایا ۔
Hadrat Jabir reported:the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may peace he upon him) sent us (on an expedition) and appointed Abu 'Ubaida our chief that we might intercept a caravan of the Quraish and provided us with a bag of dates. And he found for us nothing besides it. Abu Ubaida gave each of us one date (everyday). I (Abu Hadrat Zubair, one of the narrators) said: What did you do with that? He said: We sucked that just as a baby sucks and then drank water over that, and it sufficed us for the day until night. We beat off leaves with the help of our staffs, then drenched them with water and ate them. We then went to the coast of the sea, and there rose before us on the coast of the sea something like a big mound. We came near that and we found that it was a beast, called al-'Anbar (spermaceti whale). Abu 'Ubaida said. It is dead. He then said: No (but it does not matter), we have been sent by the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in the path of Allah and you are hard pressed (on account of the scarcity of food), so you eat that. We three hundred in number stayed there for a month, until we grew bulky. He (Hadrat Jabir) said: I saw how we extracted pitcher after pitcher full of fat from the cavity of its eye, and sliced from it compact piece of meat equal to a bull or like a bull. Abu 'Ubaida called forth thirteen men from us and he made them sit in the cavity of its eye, and he took hold of one of the ribs of its chest and made it stand and then saddled the biggest of the camels we had with us and it passed under it (the arched rib), and we provided ourselves with pieces of boiled meat (especially for use in our journey). When we came back to Medina, we went to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and made a mention of that to him, whereupon he said: That was a provision which Allah had brought forth for you. Is there any piece of meat (left) with you, so tnat you give to us that? He (Hadrat Jabir) said: We sent to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) tome of that (a piece of meat) and he ate it
ابو حضرت زبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امارت میں قریش کے ایک قافلے کو ملنے ( یعنی ان کے پیچھے ) اور ہمارے سفر خرچ کے لئے کھجور کا ایک تھیلہ دیا اور کچھ آپ کو نہ ملا کہ ہمیں دیتے ۔ سیدنا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں ایک ایک کھجور ( ہر روز ) دیا کرتے تھے ۔ حضرت ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم ایک کھجور میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو بچے کی طرح چوس لیا کرتے تھے ، پھر اس پر تھوڑا پانی پی لیتے تھے ، وہ ہمیں سارا دن اور رات کو کافی ہو جاتا اور ہم اپنی لکڑیوں سے پتے جھاڑتے ، پھر ان کو پانی میں تر کرتے اور کھاتے تھے ۔ سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو وہاں ایک لمبی اور موٹی سی چیز نمودار ہوئی ۔ ہم اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک جانور ہے جس کو عنبر کہتے ہیں ۔ سیدنا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ مردار ہے ( یعنی حرام ہے ) ۔ پھر کہنے لگے کہ نہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور تم ( بھوک کی وجہ سے ) مجبور ہو چکے ہو تو اس کو کھاؤ ۔ سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور ہم تین سو آدمی تھے ۔ اس کا گوشت کھاتے رہے ، یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے ۔ سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے چربی کے گھڑے کے گھڑے بھرتے تھے اور اس میں سے بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے ۔ آخر سیدنا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا ، وہ سب اس کی آنکھ کے حلقے کے اندر بیٹھ گئے ۔ اور اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی اٹھا کر کھڑی کی ، پھر جو اونٹ ہمارے ساتھ تھے ، ان میں سے سب سے بڑے اونٹ پر پالان باندھی تو وہ اس کے نیچے سے نکل گیا اور ہم نے اس کے گوشت میں سے زادراہ کے لئے وشائق بنا لئے ( وشائق ابال کر خشک کئے ہوئے گوشت کو کہتے ہیں ، جو سفر کے لئے رکھتے ہیں ) ۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ قصہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رزق تھا جو اس نے تمہارے لئے نکالا تھا ۔ اب تمہارے پاس اس گوشت کا کچھ حصہ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ۔ سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم نے اس کا گوشت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھایا ۔