عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ فَجَذَبَهُ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ " .
انگریزی ترجمہ
It has been narrated on the authority of Alqama b. Wai'l al-Hadrami who learnt the tradition from his father. The latter said:Salama b. Yazid al-ju'afi asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him): the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah, what do you think if we have rulers who rule over us and demand that we discharge our obligations towards them, but they (themselves) do not discharge their own responsibilities towards us? What do you order us to do? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) avoided giving any answer. Salama asked him again. He (again) avoided giving any answer. Then he asked again-it was the second time or the third time-when Ash'ath b. Qais (finding that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was unnecessarily being pressed for answer) pulled him aside and said: Listen to them and obey them, for on them shall he their burden and on you shall be your burden
اردو ترجمہ
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علقمہ بن وائل حضرمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا : اللہ کے نبی! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، اس نے دوبارہ سوال کیا ، آپ نے پھر اعراض فرمایا ، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھینچ لیا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے ، اس کا بوجھ تم پر ہے
