عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ فَقَالَ أَىْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يُذْكُرْ " فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ " . إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ " وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ سَلْ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ - قَالَ - ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَتَقُولاَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ " .
انگریزی ترجمہ
It is transmitted from Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that verily the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Amongst the inhabitants of Paradise, the lowest in rank will be the person whose face Allah would turn away from the Fire towards Paradise, and make a shady tree appear before him. He would say: O my Lord! Direct my steps to this tree so that I (should enjoy) its shade.' And the rest of the hadith is like that narrated by Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him), but he did not mention: 'He (Allah) would say: O son of Adam! What would satisfy you and make you cease asking?'
اردو ترجمہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''اہل جنت میں سب سے کم درجے پر وہ آدمی ہو گا جس کے چہرے کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی طرف سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت دکھائی جائے گی، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں.....'' آگے انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح روایت بیان کی لیکن یہ الفاظ ذکر نہیں کیے: ''اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے رکے گی؟''
