عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ . وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا . وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ أَىِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ .
انگریزی ترجمہ
This hadith has been reported from Hadrat ' A'isha (may Allah be well pleased with her), the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), by another chain of transmitters, and the words are: He (blessings and peace of Allah be upon him) came to Hadrat Khadija (may Allah be well pleased with her) and his heart was trembling. The rest of the hadith has been narrated like the one transmitted by Yunus and Ma'mar, but the first part is not mentioned, i.e. the first thing with which was started the revelation to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was the true vision. And 'Uqail narrated the words of Ma'mar: 'Allah would never cause you grief,' instead of the words of Yunus: 'By Allah, Allah would never humiliate you.'
اردو ترجمہ
عقیل بن خالد نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا: میں نے عروہ بن حضرت زبیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُمّ المؤمنین خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے، آپ کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا..... پھر (عقیل نے) یونس اور معمر کی طرح حدیث بیان کی۔ اور ان دونوں کی روایت کا ابتدائی حصہ، یعنی ان کا یہ قول کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کا آغاز سچے خوابوں کی صورت میں ہوا، بیان نہیں کیا۔ نیز عقیل بن خالد نے یونس کے ان الفاظ ''اللہ کی قسم! اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا'' کے بجائے معمر کے الفاظ ''اللہ آپ کو ہرگز غمگین نہ کرے گا'' نقل کیے۔
