عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيِّ، بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ " أُتِيَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَقَالَ لَهُ مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا - قَالَ وَلاَ يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا - قَالَ يَا رَبِّ آتَيْتَنِي مَالَكَ فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ . فَقَالَ اللَّهُ أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " . فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Sa'id al-Ashajj said Abu Khalid al-Ahmar narrated to us, from Sa'd ibn Tariq, from Rib'i ibn Hirash, from Hadrat Hudhayfa (may Allah be well pleased with him), who said: 'A servant from among the servants of Allah was brought before Allah, whom Allah had endowed with wealth. Allah asked him: What did you do in the world? — and they cannot conceal anything from Allah — He submitted: O my Lord! You gave me Your wealth, so I used to deal with people and my nature was to be lenient; I would show ease to the well-off and give respite to the one in hardship. Thereupon Allah said: I have more right to this (leniency) than you. (O My angels!) Overlook (the faults of) My servant.' Then Hadrat Uqba ibn Amir al-Juhani (may Allah be well pleased with him) and Hadrat Abu Mas'ud al-Ansari (may Allah be well pleased with him) said: We heard the same from the blessed lips of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).
اردو ترجمہ
حضرت ابو سعید اشج نے کہا ہم سے ابو خالد احمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے سعد بن طارق سے، انہوں نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے حضور اس کا ایک بندہ لایا گیا جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ — اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکتے — اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تو نے مجھے اپنا مال دیا تھا، تو میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور میری عادت درگزر کرنے کی تھی، میں مالدار پر آسانی کرتا تھا اور تنگدست کو مہلت دیتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس (درگزر) کا تجھ سے زیادہ حقدار ہوں، (اے فرشتو!) میرے بندے سے درگزر کرو۔" پھر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک منہ سے ایسے ہی سنا ہے۔
