عربی (اصل)
وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ " كَيْفَ أَنْتُمْ - أَوْ قَالَ كَيْفَ أَنْتَ - إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat 'Asim ibn al-Nadr al-Taymi narrated to us, he said: Khalid ibn al-Harith narrated to us, he said: Shu'bah narrated from Abu Na'amah, from Abdullah ibn al-Samit, from Hadrat Abu Dharr (may Allah be well pleased with him), who submitted: He (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'How would you act' — or he said — 'What would be your condition when you remain among people who would defer the prayer beyond its prescribed time? Observe the prayer at its prescribed time, then if the Iqamah is called (while you are present), pray along with them, for herein is an increase in virtue.'
اردو ترجمہ
عاصم بن نضر تیمی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: شعبہ نے ابو نعامہ سے، انھوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انھوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، فرمایا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''تم لوگوں کا کیا حال ہو گا'' یا فرمایا: ''تمھاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر اگر (تمھاری موجودگی میں) نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے۔''
