عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَزْعَةُ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لاَ أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلاَءِ عَنْهُ - قُلْتُ - أَسْأَلُكَ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ . فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ كَانَتْ صَلاَةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى .
انگریزی ترجمہ
Muhammad ibn Hatim narrated to me, Hadrat Abd al-Rahman ibn Mahdi narrated to us from Mu'awiya ibn Salih, from Rabi'a, who said: Qaz'a narrated to me, he said: I came to Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) and he was surrounded by many people. When the people departed from him, I said: I am not going to ask you what these people have been asking you. I wish to ask you about the prayer of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He said: There is no good for you in that (because you will not be able to pray like that behind the rulers who lead the prayer). He (Qaz'a), however, repeated his request. Then he (Hadrat Abu Sa'id, may Allah be well pleased with him) said: The noon prayer would be called and one of us would go to al-Baqi', relieve himself, then come to his home, perform ablution, then return to the mosque, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would still be in the first rak'ah.
اردو ترجمہ
مجھے محمد بن حاتم نے حدیث بیان کی، کہا ہمیں عبد الرحمٰن بن مہدی نے حضرت معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے ربیعہ سے، انہوں نے کہا: قزعہ نے مجھے حدیث سنائی، کہا: میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس (استفادے کے لیے) بہت سے لوگ موجود تھے۔ جب یہ لوگ ان سے (رخصت ہو کر) منتشر ہو گئے تو میں نے عرض کی: میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں یہ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے۔ میں نے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: اس میں تیرے لیے بھلائی نہیں ہے (کیونکہ تم نماز پڑھانے والے حکمرانوں کے پیچھے ایسے نماز نہیں پڑھ سکو گے)۔ انہوں نے دوبارہ اپنا مسئلہ پیش کیا تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا، اپنی حاجت پوری کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، اس کے بعد واپس مسجد میں آتا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ابھی پہلی رکعت ہی میں ہوتے تھے۔
