عربی (اصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ: أَنَا وَلَا وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ «. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي»كِتَابِ الْحميدِي: «أَنا أولى»بدل «أَنا وَلَا»
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Jibril came to me, took my hand, and showed me the gate through which my ummah will enter Paradise." Abu Bakr said: "I wish I had been with you to see it." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "You will be the first of my ummah to enter it." Reported by Abu Dawud.
اردو ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض میں مجھے فرمایا:”اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ حتیٰ کہ میں تحریر لکھ دوں، مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں خلافت کا مستحق ہوں، حالانکہ اللہ اور تمام مومن صرف ابوبکر کو ہی قبول کریں گے۔“رواہ مسلم۔ اور کتاب الحمیدی میں ((أنا ولا)) کی جگہ: ((أنا اولی)) کے الفاظ ہیں۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6021]
