عربی (اصل)
وَعَن عمر بن الْخطاب قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِي مِنْ بَعْدِي فَأَوْحَى إِلَيَّ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أَصْحَابَكَ عِنْدِي بِمَنْزِلَة النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ بَعْضُهَا أَقْوَى مِنْ بَعْضٍ وَلِكُلٍّ نُورٌ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ فَهُوَ عِنْدِي عَلَى هُدًى قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ». رَوَاهُ رزين
انگریزی ترجمہ
Abu Bakr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Shall I not inform you about the saddest of people?" They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "The saddest of people is the one who has the most and who gives the least." Then he said: "Shall I not inform you about the most miserly of people?" They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "The most miserly of people is the one whom people greet with salaam and he does not return the greeting. And whoever dislikes Abu Bakr has disbelieved." Its chain is weak, reported by al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman.
اردو ترجمہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے اپنے رب سے۔ اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق دریافت کیا تو اس نے میری طرف وحی فرمائی:”محمد! آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ قوی ہیں، اور ہر ایک کی روشنی ہے، اور جس شخص نے باوجود ان کے اختلاف کے جن پر وہ ہیں، عمل کیا تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے۔“راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔“ضعیف جذا، رواہ رزین۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6018]
