عربی (اصل)
وَعنهُ قا ل: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِينَ بَلَغَنَا إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ وَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا. قَالَ: فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ»وَيَضَعُ يدَه على الأرضِ هَهُنَا وَهَهُنَا قا ل: فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
انگریزی ترجمہ
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: When we received news of Abu Sufyan's approach, the Messenger of Allah (peace be upon him) consulted his companions. Sa'd ibn 'Ubadah stood and said, "O Messenger of Allah, by the One in Whose hand is my soul, if you ordered us to ride our horses into the sea, we would do so, and if you ordered us to march to Bark al-Ghimad, we would do so." The Messenger of Allah (peace be upon him) then called the people to march, and they set out until they encamped at Badr. The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "This is the place where so-and-so will fall tomorrow, if Allah wills," placing his hand on the ground. Not one of them fell anywhere other than the spot the Messenger of Allah (peace be upon him) had indicated. Narrated by Muslim.
اردو ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابو سفیان کی آمد کا ہمیں پتہ چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ کیا تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا، اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم فرمائیں گے تو ہم اس میں کود جائیں گے، اور اگر آپ برک غماد تک جانے کا حکم فرمائیں گے تو ہم وہاں تک بھی پہنچیں گے، راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بلایا، پھر کوچ کیا حتیٰ کہ بدر کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”یہاں فلاں قتل ہو گا۔“اور آپ اپنے دست مبارک سے زمین پر نشان لگا رہے تھے، یہاں اور یہاں، راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نشان کی جگہ سے کوئی بھی آگے پیچھے قتل نہیں ہوا تھا۔ رواہ مسلم۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5871]
