عربی (اصل)
وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ قِيلَ لَسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ. قِيلَ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ. قِيلَ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبَيْنِ؟ قَالَ: قليلُ لحم الْعقب. رَوَاهُ مُسلم
انگریزی ترجمہ
Simak ibn Harb reported from Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) had a wide mouth, large eyes with a reddish tinge, and thin heels. Simak was asked: What does 'wide mouth' mean? He said: A large mouth. He was asked: What does 'large eyes with a reddish tinge' mean? He said: Long eye openings. He was asked: What does 'thin heels' mean? He said: Little flesh on the heels. Narrated by Muslim.
اردو ترجمہ
سماک بن حرب، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضلیع الفم، اشکل العین اور منھوش العقبین تھے۔ سماک ؒ سے پوچھا گیا، ضلیع الفم سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: کشادہ چہرے والے، پوچھا گیا، اشکل العین سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بڑی اور طویل تھیں، پھر پوچھا گیا: منھوش العقبین سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑھیاں پتلی تھیں۔ رواہ مسلم۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5784]
