عربی (اصل)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ إِسْرَافِيلَ مُنْذُ يَوْمَ خَلْقَهُ صَافًّا قَدَمَيْهِ لَا يَرْفَعُ بَصَرَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَبْعُونَ نورا مَا مِنْهَا من نورٍ يدنو مِنْهُ إِلاّ احْتَرَقَ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ
انگریزی ترجمہ
Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah created Israfil since the day He created him, with his feet beneath the seventh earth and his head beneath the Throne. The distance between his earlobes and his shoulders is a journey of seven hundred years. He says in his glorification: 'Glory be to You, O my Lord, and praise be to You. I have not worshipped You as You deserve to be worshipped.'" Narrated by al-Bayhaqi in 'al-Ba'th wal-Nushur.'
اردو ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اللہ نے اسرافیل ؑ کو پیدا فرمایا، اس نے جس روز سے اسے پیدا فرمایا وہ اس وقت سے اپنے قدموں پر کھڑا ہے اور وہ اپنی نظر تک نہیں اٹھاتا، اس کے اور اس کے رب تبارک و تعالیٰ کے درمیان ستر نور ہیں، جو اس نور کے قریب جاتا ہے تو وہ جل جاتا ہے۔“ترمذی، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ضعیف، رواہ الترمذی۔[مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5731]
