عربی (اصل)
وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: بَيْنَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ». قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: «إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
انگریزی ترجمہ
Abdullah ibn Amr reported from the Messenger of Allah (peace be upon him) who said: "Allah does not take away knowledge by snatching it from people, but He takes it away by taking away the scholars. When no scholar remains, people will take ignorant ones as their leaders. They will be asked for rulings and will give them without knowledge. They will go astray and lead others astray." Agreed upon.
اردو ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اس اثنا میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے کہ اچانک ایک اعرابی آیا تو اس نے عرض کیا: قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”جب امانت ضائع ہو جائے تو پھر قیامت کا انتظار کر۔“اس نے عرض کیا: اس کا ضائع کرنا کیسے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو پھر قیامت کا انتظار کر۔“رواہ البخاری۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفتن/حدیث: 5439]
