عربی (اصل)
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي. فَكَتَبَتْ: سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «من التمَس رضى الله بسخط النَّاس كفاهُ اللَّهُ مؤونة النَّاس وَمن التمس رضى النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ»وَالسَّلَام عَلَيْك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انگریزی ترجمہ
Mu'awiyah wrote to Aishah, may Allah be pleased with her: "Write me a letter advising me, and keep it brief." She wrote: "Peace be upon you. As for what follows: I heard the Messenger of Allah, peace be upon him, say: 'Whoever seeks the pleasure of Allah despite the displeasure of people, Allah will suffice him against the people. And whoever seeks the pleasure of people despite the displeasure of Allah, Allah will leave him to the people.'"
اردو ترجمہ
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا کہ آپ اختصار کے ساتھ مجھے وصیت لکھیں، چنانچہ انہوں نے لکھا: سلام علیک! امابعد! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:”جو شخص لوگوں کی ناراضی کے بدلے میں اللہ کی رضا تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے شر سے کافی ہو جاتا ہے، اور جو شخص اللہ کی ناراضی کے بدلے میں لوگوں کی خوشی تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔“والسلام علیک! سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5130]
