عربی (اصل)
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْسَابُكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ بِالصَّاعِ لَمْ تملؤوه لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ وَتَقْوًى كَفَى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا فَاحِشًا بَخِيلًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
انگریزی ترجمہ
Aishah reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said: "Any woman who marries without the permission of her guardian, her marriage is void" — he said it three times. "If he consummates the marriage with her, the mahr is hers for what he obtained from her. If they dispute, the ruler is the guardian of one who has no guardian."
اردو ترجمہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے یہ انساب (ذات، قبیلے) کسی کے لیے باعث عار نہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو اور تم سب باہم اس طرح برابر ہو جس طرح ایک صاع دوسرے صاع کے برابر ہوتا ہے، دین اور تقویٰ کے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں، آدمی کے لیے عار کے لحاظ سے یہی کافی ہے کہ وہ زبان دراز، فحش گو اور بخیل ہو۔“حسن، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4910]
