عربی (اصل)
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي ربض الْجنَّة وَمن ترك المراء وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَفِي الْمَصَابِيحِ قَالَ غَرِيبٌ
انگریزی ترجمہ
Aishah, may Allah be pleased with her, reported: A man sought permission to enter upon the Prophet, peace be upon him. When the Prophet saw him, he said: "What a wretched brother of his tribe!" or "What a wretched son of his tribe!" When the man sat down, the Prophet treated him kindly and spoke to him gently. After the man left, Aishah said: "O Messenger of Allah, when you saw the man you said such and such about him, then you treated him kindly." The Messenger of Allah, peace be upon him, said: "O Aishah, when have you ever known me to be vulgar? Indeed, the worst of people in the sight of Allah on the Day of Resurrection are those whom people avoid due to their evil."
اردو ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دیتا ہے درآنحالیکہ وہ باطل پر تھا۔ اس کے لیے جنت کے کنارے پر ایک گھر بنا دیا جاتا ہے، اور جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا ترک کر دیا تو اس کے لیے جنت کے وسط میں گھر بنا دیا جاتا ہے، اور جس نے اپنا اخلاق سنوار لیا، اس کے لیے اس میں بلند جگہ پر گھر بنا دیا جاتا ہے۔“امام ترمذی نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اور اسے حسن کہا ہے، اور اسی طرح شرح السنہ اور مصابیح میں ہے، فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی و فی شرح السنہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4831]
