عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ وَإِنَّ الْعَبْدَ لِيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ»
انگریزی ترجمہ
Abu Hurairah reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said: "A servant may utter a word pleasing to Allah to which he gives no thought, and Allah raises him by several degrees because of it. And a servant may utter a word displeasing to Allah to which he gives no thought, and he plunges into Hellfire because of it." In a narration of both al-Bukhari and Muslim: "He plunges into the Fire a distance greater than that between the East and the West."
اردو ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”بے شک بندہ ایسی بات کرتا ہے جس میں اللہ کی رضا ہوتی ہے اور وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا، لیکن اللہ اس کی وجہ سے درجات بلند فرما دیتا ہے، اور بندہ ایسی بات کرتا ہے جس میں اللہ کی ناراضی ہوتی ہے اور وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا، لیکن وہ اس کے باعث جہنم میں گر جاتا ہے۔“یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور بخاری، مسلم کی روایت میں ہے:”وہ اس (بات) کی وجہ سے جہنم میں اس قدر گہرا گر جاتا ہے جس قدر مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے۔“رواہ البخاری و مسلم۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4813]
