عربی (اصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً يُقَالُ لَهَا: مَارِيَّةُ وَكَانَتْ أُمُّ سَلمَة وَأم حَبِيبَة أتتا أرضَ الْحَبَشَة فَذَكرنَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّور أُولَئِكَ شرار خلق الله»
انگریزی ترجمہ
'A'ishah narrated: When the Prophet (peace be upon him) fell ill, some of his wives mentioned a church called Mariyah. Umm Salamah and Umm Habibah had been to the land of Abyssinia, and they mentioned its beauty and the images in it. He raised his head and said: "Those people, when a righteous man among them died, they would build a place of worship over his grave and make those images in it. They are the worst of creation before Allah." Agreed upon.
اردو ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کی ایک بیوی نے کنیسہ کا ذکر کیا جسے ماریہ کہا جاتا ہے، ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سرزمینِ حبشہ گئی تھیں، انہوں نے اس کے حسن اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا:”یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے، پھر اس (مسجد) میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ اللہ کی بدترین مخلوق ہیں۔“متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب اللباس/حدیث: 4508]
