عربی (اصل)
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ أوَّلَ النَّاس ضيَّف الضَّيْف وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ شَارِبَهُ وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَى الشَّيْبَ فَقَالَ: يَا رَبِّ: مَا هَذَا؟ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا. رَوَاهُ مَالك
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) b. Sa'id told that he heard Sa'id b. al-Musayyib say :Abraham (upon him be peace), the friend of the Compassionate One, was the first man to entertain a guest, the first man to be circumcised, the first man to clip his moustache, and he first man to notice grey hairs, so he said, “What is this, my Lord?” The Lord who is blessed and exalted replied, “Dignity, Abraham.” He said, “My Lord, give me more dignity.” Malik transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سعید بن المسیب کو فرماتے سنا: حضرت ابراہیم خلیل الرحمٰن علیہ السلام پہلے انسان تھے جنہوں نے مہمان نوازی کی، پہلے انسان تھے جنہوں نے ختنہ کروایا، پہلے انسان تھے جنہوں نے مونچھیں کتروائیں اور پہلے انسان تھے جنہوں نے سفید بال دیکھے تو عرض کیا: یا رب! یہ کیا ہے؟ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اے ابراہیم! یہ وقار ہے۔ عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اور وقار عطا فرما۔ امام مالک نے روایت کیا۔
