عربی (اصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنكر الحَدِيث
انگریزی ترجمہ
‘A’isha told that God’s messenger said to her, “If you wish to join me, ‘A’isha, be satisfied with worldly things to the extent of a rider’s provision, avoid sitting with the rich, and do not consider a garment worn out till you patch it.” Tirmidhi transmitted it saying this is a gharib tradition which he knew only among the traditions of Salih (upon him be peace) b. Hassan whose traditions are stated by Muhammad b. Isma'il ( i.e. Bukhari) to be rejected.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ! اگر تو مجھ سے ملنا چاہتی ہے تو دنیا سے مسافر کے توشے جتنا تجھے کافی ہو، امیروں کی محفل سے بچنا، اور کپڑے کو پرانا نہ سمجھنا جب تک اسے پیوند نہ لگا لو۔ (ترمذی نے کہا: غریب ہے، صالح بن حسان سے ہے جن کی حدیث منکر ہے)
